کراچی، (ویب، اسٹاف رپورٹر) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یوجے دستور) کے وفد نے سانگھڑ میں سینئر صحافی خاور حسین کی پرُاسرار موت کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی اور اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ لی۔
کے یوجے دستور کی درخواست پر آج حیدرآباد میں خاور حسین کا دوسرا پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا تاکہ موت کی اصل وجوہات سامنے آسکیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے وفد کو بتایا کہ خاور حسین کے کراچی سے سانگھڑ تک سفر کی تمام تفصیلات اور ان کے موبائل فون کا سی ڈی آر حاصل کرلیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔
بعدازاں کے یوجے دستور کے نمائندوں نے ڈپٹی کمشنر سانگھڑ سارہ جاوید سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ تحقیقات کو شفاف بنانے کے لیے تمام جدید ٹیکنالوجی اور وسائل استعمال میں لائے جائیں۔
خاور حسین کی نمازِ جنازہ نمازِ عصر کے بعد سانگھڑ میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ تدفین میں پی ایف یو جے دستور کے جنرل سیکریٹری اے ایچ خانزادہ، کے یوجے دستور کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکریٹری ریحان چشتی، کراچی پریس کلب کے جوائنٹ سیکریٹری محمد منصف سمیت سینئر صحافیوں رضوان بھٹی، نعمت خان، خلیل ناصر، زین علی، ثاقب صغیر اور دیگر کثیر تعداد میں صحافی شریک ہوئے۔