تازہ ترین
Home / اہم خبریں / نگراں صوبائی وزیر اطلاعات، اقلیتی امور، سماجی تحفظ و صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کی ناصرہ اسکول کی ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب میں خصوصی شرکت

نگراں صوبائی وزیر اطلاعات، اقلیتی امور، سماجی تحفظ و صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کی ناصرہ اسکول کی ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب میں خصوصی شرکت

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین ) نگراں صوبائی وزیر اطلاعات، اقلیتی امور، سماجی تحفظ و صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے ناصرہ اسکول کی ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب میں خصوصی شرکت کی ۔تقریب میں نگراں صوبائی وزیر اطلاعات محمد احمد شاہ کے ہمراہ معروف شخصیت حسین ہارون ،اعجاز فاروقی شہناز وزیر علی اورعالیہ نقوی بھی شریک تھی ۔نگراں صوبائی وزیر اطلاعات ،اقلیتی امور، سماجی تحفظ و صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے ناصرہ اسکولز کی ڈائمنڈ جوبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جب صرف ایک سال کا تھا۔اس اسکول کے بنانے والوں نے تب سوچا کہ کچھ کیا جائے۔اس شہر کو بنانے والوں کے لیے ہم ایک فیسٹیول کا انعقاد کریں گے۔ میں جب کوئی پرانا درخت یا ادارہ دیکھتا ہوں بہت خوش ہوتا ہوں۔ناصرہ اسکول گاو ں کی ایک لڑکی کا آئیڈیا تھا۔اس لڑکی کو اس کے سسرال والوں نے بہت سپورٹ کیا۔یہ ایک کہانی ہے۔ ناصرہ اسکول میرے لیے ایک انسپریشن ہے میں سب کو بتاتا رہتا ہوں کہ ہمارے سر خطرہ منڈلاتا رہتا ہے وہ سارے خواب جو ہمارے بڑوں نے دیکھے۔ہم سب قربانیاں دیں کر ایک ایسا ملک بنائے گے جہاں سب کو برابرکے حقوق ملیں گے۔جو پاکستان آج ہے ایسا کسی نے نہیں سوچا تھا کہ پاکستان ایسا ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس شہر کی آدھی زمینیں حسین ہارون کے آباو اجداد کی ہیں۔اس شہر کو کنکریٹ کا جنگل بنا دیا۔یہ ناصرہ اسکول ایک ماڈل ہے۔اس وقت شہر میں کوئی کالج یا اسکول نہیں تھا۔یہ شہر اتنا خراب نہیں تھا۔آرٹس کونسل انیس سو چوون میں بنا۔انیس سوپچپن میں آرٹس کونسل کی پہلی عمارت تعمیر ہوئی انیس سو ساٹھ میں ہالینڈ اور بیلجیم سے فنکارنمایشیں کرنے پاکستان آتے تھے ۔یہ ایک لبرل شہرتھا۔یہاں یہودی ،کرسچن ،ہندو،پارسی مل جل کر رہتے تھے۔ضیاءمحی الدین نے پہلا شیکسپئر کا تھیٹر کراچی میں کیا۔نگراں وزیر اطلاعات محمد احمد شاہ نے مزید کہا کہ ایسی جگہوں میں آ کر ایک الگ احساس ہوتا ہے۔میں ناصرہ اسکولز کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ہم کچھ ایسا پلان کرتے ہیں کہ اسی طرح دیگر اسکولز بھی بنائے جائیں۔ہمیں تعلیم کے شعبے میں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔جب تک پیانو اور قلم ایک ساتھ نہیں ہون گے ایک بہتر طالب علم نہیں بن سکے گے ۔ہمیں اپنی تہذیب سے جڑنے کی شدید ضرورت ہے ۔ہم صرف روبوٹس بنا رہے ہیں۔ناصرہ اسکول کی ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب سے شہناز وزیر علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم ناصرہ اسکولز کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہے ہیں۔ناصرہ اسکول گزشتہ پچھتر برسوں سے ان بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہا ہے جو تعلیم افورڈ نہیں کر سکتے۔یہ ایک لمبا سفر ہے۔ایک قدم سے شروع ہونے والا سفر ہزاروں میلوں پر محیط ہے۔میری ماں نے پچھتر برس پہلے ناصرہ اسکول قائم کیا۔دو تین کمروں کے مکان سے ناصرہ اسکول کی شروعات ہوئی۔دس پندرہ بچوں سے اسکول شروع کیا۔پہلے ناصرہ اسکول کا نام فروبیلز اسکول تھا۔بعد میں اسکول کا نام ناصرہ اسکول رکھا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ احمد شاہ ہر سال آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں سینکڑوں ادبی میلوں،کانفرنس اور ثقافتی پروگرامز کا انعقاد کرتے ہیں۔احمد شاہ امن کے سفیر ہیں۔احمد شاہ ثقافت کے ذریعے سب کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔احمد شاہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں ثقافتی پیغام لے کرگئے ہیں۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

اقرا یونیورسٹی میں اسپورٹس ویک کا رنگا رنگ آغاز، مختلف کھیلوں کے مقابلے جاری

کراچی (ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) اقراء یونیورسٹی میں اسپورٹس ویک اور اسپورٹس فیسٹیول کا شاندار آغاز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے