Home / اہم خبریں / عوامی مسائل کے حل کرنے اور عوام کی خدمت کے لئے اس ملک میں پیپلز پارٹی سے بہتر کوئی جماعت نہیں ہے۔ سعید غنی/ نثار کھوڑو

عوامی مسائل کے حل کرنے اور عوام کی خدمت کے لئے اس ملک میں پیپلز پارٹی سے بہتر کوئی جماعت نہیں ہے۔ سعید غنی/ نثار کھوڑو

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو اور کراچی ڈویژن کے صدر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کرنے اور عوام کی خدمت کے لئے اس ملک میں پیپلز پارٹی سے بہتر کوئی جماعت نہیں ہے۔ ہمیشہ کہتے آئے ہیں ایم کیو ایم چوں چوں کا مربہ ہے، ان میں اختلافات پہلے سے ہی تھے البتہ اب کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ گورنر سندھ اپنی پارٹی کی مخالفت پر توجہ دیں، ڈی آئی جی ٹریفک بننے کی ان کی عمر نکل چکی ہے۔ پی ٹی آئی کو اب کسی قسم کی کوئی سہولت میسر آنے والی نہیں ہے، اب تو انہوں نے فارم 47 کے مطالبے سے بھی اپنے آپ کو دستبردار کرلیا ہے۔ پیپلز پارٹی میں ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں کے ذمہ داران و کارکنان کی ذوق در ذوق شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس شہر، صوبے اور ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز مقامی ہال میں منعقدہ شمولتی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ شمولیتی تقریب سے متحدہ آرگنائزنگ کمیٹی ایم۔کیو ایم و ہزاروہ قومی موومنٹ کے عبدالباسط تنولی، عوامی نیشنل پارٹی کے عالم زیب، متحدہ بزنس فورم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے عہدیداران و کارکنان کی بڑی تعداد میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ تقریب سے وزیر اعلٰی سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، عبدالباسط تنولی، عالم زیب، پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ سینٹرل کے صدر سردار خان، جنرل سیکرٹری شہزاد مجید، ڈسٹرکٹ ویسٹ کے صدر عابد ستی، لیاقت آسکانی، سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ ہم عہدار بنے ہیں اور لوگوں کو شامل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 300 لوگوں سے پارٹی بنائی تھی یہی ہم نے ان سے سیکھا ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی ملک کی پارٹی کسی خطے کی پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی سب کے لیے بنائی ہے اور ہم اس کو بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں اور آج سندھ میں ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ پیپلز پارٹی آج سندھ میں سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے اور عبدالباسط، عالم زیب سمیت دیگر نے بھی دیکھا اور وہ پارٹی میں شامل ہوئے۔ اس طرح عوامی نیشنل پارٹی سے اور ساتھی بھی شامل ہوئے۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کےکارکنوں نے بہت قربانیاں دی، شہادتیں دیں، کوڑے کھائے اور پیپلزپارٹی اب مضبوط ہوگئی ہے اور ہم اس میں نیا خون شامل کررہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت اور ملک کی ترقی میں خواتین کا بہت کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہصدر آصف علی زرداری نے بے نظیر انکم اسپورٹ شروع کیا تو اس وقت ہمارے کارکنوں نے اعتراض کیا بے کہ نظیر انکم اسپورٹ کے فارم دوسری پارٹیوں کیوں دے جارہیں ہے۔ تو انہیں جواب دیا گیا کہ یہ سب ہمارے ہی ہیں اور الحمد اللہ 90 لاکھ خاندانوں سے زائد لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ شہید بھٹو کو کہتے تھے روڈ اور اسکول کیوں بنار ہیں، زمیندار کے پاس ہاری کا کون کام کون کرے گا، تو بھٹو شہید کا جواب تھا کہ تعلیم ہی تمام مسائل کا واحد حل ہے اور روڈ راستے ہی اس ملک کی ترقی کے ضامن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبدالباسط تنولی نے ابھی بتاتا کہ کے پی کے میں کہا کہ60 لاکھ ہزارہ قوم کے افراد ہیں جبکہ پنجاب میں 16 لاکھ ہزاروال رہتے ہیں، میں نے کہا کہ سب سے پہلے پنجاب جائیں اور وہاں اپنے لوگوں کو پیپلز پارٹی میں شمولیت کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد بلاول بھٹو ہی ایسے وزیرخارجہ بنے، جو کہتا ہے خون مانگوں گے تو خون دونگا اور جان مانگوں کے جان دونگا۔ آب ہمیں اس ملک کے لئے بلاول بھٹو جیسا لیڈر چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں، ہمیں تعصب نہیں چاہیے۔ تقریب خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا کہ کراچی سے بہت بڑی تعداد میں لوگ پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہیں ہیں، کیونکہ وہ اب یہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ عوامی مسائل حل کرنے میں پیپلز پارٹی سے بہتر کوئی جماعت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی مدد سے کراچی کے مسائل حل کرے گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں قبرستان کی اشد ضرورت ہے، موجودہ قبرستانوں میں جگہ نہیں ہے۔ قبرستان کے لیے سندھ حکومت نے زمین کی نشاہدہی کرلی ہے۔ حکومت نے مختلف اداروں اور لوگوں کو قبرستانوں کے لیے جگہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قبرستانوں کے لئے نہ صرف ایک اتھارٹی بھی قائم کررہے ہیں بلکہ قوانین بھی بنائی جارہے ہیں تاکہ ان کو آرگنائز طریقے سے بنایا اور سنبھالا جاسکے۔ سعید غنی نے کہا کہ یہاں دوستوں نے ہزارہ قومیت کے لئے قبرستان کا مطالبہ کیا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ یہاں بسنے والی تمام قومیتوں کو اس کی آج ضرورت ہے۔ انہوں پیپلز پارٹی عوام کی جماعت ہے، اور جب سے یہ بنی ہے، بلا رنگ نسل، مذہب یا تعصب کے عوام کی خدمت کرتی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1970 میں جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی قائم کی تو پنجاب میں زیادہ مضبوط تھی۔ لیکن آمر و ڈکٹیٹر ضیاء کو یہ مقبولیت اپنے اوپر ایک تلوار نظر آتی تھی، اس لئے اس نے 1986 میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لاہور کے تاریخی استقبال کے بعد پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کے لئے لسانیت، مسلک اور مذہب کے نام کی بنیادوں پر کچھ سیاسی جماعتوں کو مضبوط کروایا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف بہت سے سازشیں کی گئی، ہماری قیادتوں کو شہید کیا گیا تاکہ پارٹی کمزور ہو، لیکن ان سازشوں اور شہادتوں نے آج پارٹی کو نہ صرف مضبوط کردیا ہے بلکہ پیپلز پارٹی آج بھی چاروں صوبوں کی جماعت ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ جنرل ضیاء کے دور میں لسانی جماعتوں کی وجہ سے آج بھی ہم اس کا خمیازہ لسانیت اور دہشتگردی کی صورت میں بھگت رہیں ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ شہر کے مسائل سب کے مسائل ہیں، الحمد اللہ آج اس شہر میں دہشت گردی کی وبا قابو میں آئی ہے، یہ اس ملک کا واحد شہر ہے جس کا ہر گھر دہشت گردی کا متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب شہر میں لوگوں میں شعور پیدا ہوا ہے کہ وہ لسانیات پر نہیں جانا چاہتے بلکہ وہ اس شہر کو محبت اور امن کا شہر بنانا چاہتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس شہر کی تعمیر و ترقی کے کئے پاکستان پیپلز پارٹی سے بہتر اور کوئی سیاسی جماعت اس ملک میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ، قومی ہو یا صوبائی اسمبلیاں اور یوسی میں پیپلز پارٹی میں ہر قوم کی نمائندگی ملے گی۔ سینٹ میں غیر مسلمان کی ایک سیٹ ہے پیپلز پارٹی کے تین نشستیں غیر مسلم کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی اور سیاسی یا مذہبی پارٹی میں یہ جرات نہیں ہے کہ وہ غیر مسلموں کو نشست دیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی مظلوم لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے ۔ عوام کی خدمت کے لیے پیپلز پارٹی سے بہتر کوئی جماعت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں سے کراچی میں کئی منصوبے بنا رہیں ہیں ۔ ہزارہ برادری کراچی میں پیپلز پارٹی میں اور ہزارہ میں کسی اور پارٹی کا نہیں ہونی چاہیے، اس لئے میری آج شامل ہونے والے میرے ہزارہ کے دوستوں سے یہ بھی گزارش ہے کہ وہ ہزارہ سمیت ملک بھر میں جہاں جہاں ہزارہ برادری موجود ہے ان کو بھی پیپلز پارٹی میں شامل کروائیں۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے نثار احمد کھوڑو اور سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات ان کے اپنے ہیں، ہمیشہ کہتے آئے ہیں ایم کیو ایم چوں چوں کا مربہ ہے، ان میں اختلافات پہلے سے ہی تھے البتہ اب کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ پہلے اپنی پارٹی میں اپنے لئے اختلافات پر توجہ دیں، ڈی آئی جی ٹریفک بننے کی عمر چلی گی ہے، البتہ وہ ڈی آئی جی کے ایڈوائزر بن سکتے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا اصل مسئلہ ان لیڈرشپ کا مسئلہ ہے۔مصطفے کمال جانے ان کی پارٹی جانے۔ پی ٹی آئی کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اب کسی قسم کی کوئی سہولت میسر آنے والی نہیں ہے، اب تو انہوں نے فارم 47 کے مطالبے سے بھی اپنے آپ کو دستبردار کرلیا ہے۔نثارکھوڑو نے کہا نے کہا کہ خود اسد قیصر نے کہاکہ اگر 8 فروری کو نہیں نکلے تو جمہورت نہیں ہوگی اور کل ایک صوبے سے ہی نکلے ہیں باقی صوبوں سے کوئی نہیں نکلا۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے