سکرنڈ، (رپورٹ، راج کمار اوڈ) النور ایم ڈی ایف (بورڈ فیکٹری) کی انتظامیہ اور محنت کش یونین کے درمیان جاری تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے بعد فیکٹری کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے فیکٹری بندش کا باضابطہ نوٹس بھی جاری کر دیا گیا، جبکہ اس فیصلے کے نتیجے میں سیکڑوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ فیکٹری کی بندش پر مزدوروں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔
فیکٹری بندش کے خلاف محنت کش یونین کے رہنماؤں عابد ڈاہری، غلام مصطفیٰ جویو، کامریڈ یاسین ملاح، عبدالغنی ڈاہری اور منیر بگو کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین نے فیکٹری کی فوری بحالی اور مزدوروں کے مسائل کے حل کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ یونین رہنماؤں کا کہنا تھا کہ فیکٹری انتظامیہ، خصوصاً جنرل منیجر اور سائٹ منیجر اسماعیل آرائیں، محنت کشوں اور یونین عہدیداروں کو ہراساں کر رہے ہیں اور ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق لیبر قوانین کے تحت 17 ماہ گزرنے کے باوجود مزدوروں کے مسائل حل نہیں کیے گئے جبکہ تنخواہوں سے پانچ فیصد رقم کی کٹوتی بھی مزدوروں کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔
دوسری جانب محکمہ محنت کے حکام نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فیکٹری کا دورہ کیا۔ حیدرآباد کے ریجنل ڈائریکٹر عبدالصمد سومرو اور نواب شاہ کے ڈویژنل ڈائریکٹر نور محمد لاکو نے مزدور رہنماؤں اور انتظامیہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان تنازع کے حل کے لیے 4 جون کو حیدرآباد میں لیبر ڈائریکٹر کے دفتر میں ایک اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جہاں مسائل کے حل اور فیکٹری کی بحالی کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔