کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پنجاب میں حالیہ سیلابی صورتحال پر حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر آبپاشی پانی کی صورت حال مانیٹر کر رہے ہیں جبکہ دریاؤں اور بیراجوں پر پانی کی آمدورفت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ سندھ میں فی الحال ایمرجنسی کی صورتحال نہیں تاہم صوبائی پی ڈی ایم اے اور انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور کچے کے علاقوں میں رہنے والوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاری مکمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے بوٹس، خیمے، کچن کا سامان اور دیگر ضروری اشیاء پہلے ہی ذخیرہ کر لی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایک خصوصی سیل قائم کیا ہے جو این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور وزراء کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود رہیں جبکہ ناصر حسین شاہ کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ 2010 کے تباہ کن سیلاب کے تجربے کے بعد سندھ حکومت نے ہر ممکن حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو کھانے اور رہائش فراہم کی گئی اور گھروں کی تعمیر کا عمل بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کے قدرتی بہاؤ پر آبادیاں بسانے سے نقصان ہوتا ہے، اس لیے کچے کے علاقوں کا مکمل ڈیٹا تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت سندھ کے بیراجوں کو کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی پنجاب کے دریاؤں کا سارا پانی سندھ میں داخل ہوگا۔
سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بارشوں کے بعد کراچی کی سڑکوں کی مرمت اور تعمیر کے لیے مختص فنڈز استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف بیانات اور پریس کانفرنسوں تک محدود ہیں۔ پیپلز پارٹی کے خلاف ماضی میں منفی مہمات چلائی گئیں مگر حقیقت یہ ہے کہ سندھ حکومت نے صحت، توانائی، تعلیم اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں نمایاں منصوبے مکمل کیے ہیں۔ تھر کول منصوبے سے پورے پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے جبکہ کراچی کی بہتری کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔