تازہ ترین
Home / اہم خبریں / آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز سیشن ”آج کامران خان کے ساتھ“ کا انعقاد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز سیشن ”آج کامران خان کے ساتھ“ کا انعقاد

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز آج کامران خان کے ساتھ پروگرام میں ٹیلی ویژن کے معروف نیوز اینکر کامران خان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی صحافی ہو خبر حاصل کرنے کے لیے اس کے اپنے ذرائع ہوتے ہیں، صحافت میں کوئی وحی نہیں اترتی بلکہ اپنے ذرائع استعمال کرکے خبر کی سچائی تک پہنچنا ہوتا ہے، صحافی کو سوال پوچھنے کا فن آنا چاہیے جواب آپ کو خود بخود مل جائے گا، ناظم اویس توحید کے مختلف سوالوں کے جواب میں کامران خان نے کہا کہ کوئی بھی دور رہا ہو میں نے خبر کی سچائی اور حقیقت تک پہنچنے کے لیے بہت ایمانداری کے ساتھ کام اور محنت کی ہے یہاں تک کے بعض مواقوں پر مجھ سے حکومت کرنے والوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا کوئی حکومتی شخص تو مجھ سے ملا ہوا نہیں ہے جو مجھے یہ ساری خبریں پہنچاتا ہے انہوں نے کہا کہ خواب دیکھنا اور تبدیلی کا سوچنا ہر شخص کا حق ہے اور میں نے بھی اسی سوچ کے ساتھ اپنے حق کو استعمال کرتے ہوئے مختلف چینلز پر جانے کا تجربہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ میرے ایک چینل پر جانے کے بعد تو دیگر اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں کے حالات بھی بہتر ہوگئے تھے، میرا یہ اصول ہے کہ جس کے ساتھ آپ کا تعلق اور اٹھنا بیٹھنا رہا ہو اس کے بارے میں منفی گفتگو سے اجتناب کرنا چاہیے، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ عالمی اُردو کانفرنس کے تسلسل کے ساتھ انعقاد سے ادب کی بڑی خدمت کر رہے ہیں، میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ میں خبر کی جستجو میں رہتے ہوئے سچائی اورحقائق سے آگاہ رہوں تاکہ پڑھنے والوں تک درست معلومات کے ساتھ خبر پہنچے، میں نے ڈیلی نیوز اخبار سے اپنی عملی صحافت کا آغاز کیا اور ابتداء میں کرائم رپورٹنگ کی، سات آٹھ برس کی عمر ہی میں، میں اخبار کو اس طرح سے پڑھتا تھا کہ میرے اس پڑھنے کے عمل کو دوسرے لوگ اخبار کو پی جانا کہتے تھے، جب ہم نے صحافت میں قدم رکھا تو وہ مارشل لاء کا دور تھا اس وقت ہم اپنا پیغام صحافت کے ذریعے ہی دیتے تھے اور اس طریقہ کار پر ریاست کی بھی نظر ہوتی تھی لہٰذا اس وقت صحافت کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا انہوں نے کہا کہ 1985 کے اختتام پر میں نے واشنگٹن پوسٹ کے لیے بھی کام کیا اور اس وقت میری محنت اور کام کا یہ انداز تھا کہ میں بیک وقت ڈیلی ٹائمز، مسلم، واشنگٹن پوسٹ اور سنڈے ٹائمز کے لیے کام کرتا رہا اور کئی بار ایسا بھی ہوا کہ میری لکھی ہوئی ایک ہی اسٹوری اور ہیڈ لائن ان سب اخباروں میں ایک ساتھ شائع ہوتی تھیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے