تازہ ترین
Home / اہم خبریں / ٹیکس مسائل کے حل کیلئے کاٹی میں فوکل پرسن تعینات کرینگے۔ حیدر علی دھاریجو چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو

ٹیکس مسائل کے حل کیلئے کاٹی میں فوکل پرسن تعینات کرینگے۔ حیدر علی دھاریجو چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو

کراچی (نوپ نیوز) گزشتہ 6 ماہ میں لیدر ایکسپورٹرز کو 1 ارب 60 کروڑ روپے کے ٹیکس ریفنڈز واپس کئے، جبکہ گزشتہ سال 1 ارب کے ریفنڈز کی ادائیگی کی گئی۔ 70 فیصد سے زائد ٹیکس ریفنڈز ادا کئے جا چکے ہیں، مسنگ اور 2016 سے 2018 تک کے ریفنڈز کے مسائل حل کرنے میں بھرپور تعاون کریں گے۔ کورنگی کے صنعتکاروں و ممبران کے ٹیکس مسائل کیلئے کاٹی میں ایک فوکل پرسن مقرر کر دیں گے جس کا 24 گھنٹے میں نوٹفیکیشن کر دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہارایف بی آر میں ریجنل ٹیکس آفس ٹو کے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو حیدر علی دھاریجو نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر کیا۔ ان کے ہمراہ کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر، صدر سلمان اسلم، کائیٹ کے سی ای او زبیر چھایا، سینئر نائب صدر ماہین سلمان، نائب صدرسید فرخ قندھاری، سابق صدور کاٹی سلیم الزماں، دانش خان، مسعود نقی، جوہر قندھاری، احتشام الدین، طارق ملک، ایس ایم یحییٰ، کمشنر ایف بی آر لعل محمد، ڈپٹی کمشنر آئی ٹی ایف بی آر پارس سمیت دیگر ممبران شریک تھے۔ چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو حیدر علی دھاریجو کا کہنا تھا کہ گوشوارے جمع کرانے والوں میں 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد ریٹرن فائل ہوئے جس میں 25 ہزار سے زائد نئے فائلر تھے۔ جبکہ ہدف کے مقابلے میں اب تک 300 ارب سے زائد ٹیکس اکھٹا کر لیا ہے اور امید ہے کہ مقررہ ہدف وقت سے پہلے مکمل کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں شفافیت اولین ترجیح ہے، شکایات کے ازالے کیلئے تمام کارروائیاں اور دستاویزات آن لائن کر دی ہیں۔ لوگ اب با آسانی انکم ٹیکس سرٹیفیکیٹ آن لائن حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ریفنڈز بھی خودکار آن لائن طریقے سے جاری کئے جا رہے ہیں۔ چیف کمشنر نے کہا کہ کاٹی کا شمار پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی علاقوں میں ہوتا ہے اسی لئے ذاتی طور پر صنعتکاروں کے مسائل حل کرنے کی کوششیں کر رہا ہوں۔ حیدر علی دھاریجو نے کہا کہ آئندہ ماہ سے ٹیکس ادا کرنے والوں کی سہولت کیلئے ای کچہری کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں جس میں لوگ فون کرکے اپنی شکایات براہ راست دے سکتے ہیں۔ اس سے قبل کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ہر بزنس مین ٹیکس ادا کرے، ٹیکس چوری کرنے والوں کا کبھی ساتھ نہیں دیں گے۔ لیکن ایف بی آر حکام کو رشوت بھی نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکار 10 فیصد شرح سود پر رقم سے کاروبار کرتے ہیں لیکن ٹیکس حکام ان کا پیسہ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں ریفنڈز کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ ایف بی آر میں 2007 سے ریفنڈز پھنسے ہیں، جو ابھی تک ادا نہیں کئے گئے۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان لٹریری فورم کے اشتراک سے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں بروشسکی زبان کی ترویج کے لیے کانفرنس کا انعقاد
https://www.nopnewstv.com/gilgit-baltistan-literary-forum

صدر کاٹی سلمان اسلم نے کہا کہ کورنگی سے تعلق رکھنے والے صنعتکاروں کو متعدد نوٹسز جاری کئے جا رہے ہیں۔ ایف بی آر میں چند کرپٹ عناصر کے باعث پیدا ہونے والے منفی تاثر ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی ادائیگی اور ریفنڈز کے سسٹم کو آسان بنایا جائے۔ کائیٹ کے سی ای او زبیر چھایا نے اس موقع پر کہا کہ حکومت نے فائلر اور نان فائلر کا فرق پیدا کرکے اپنے معاشی اہداف تو حاصل کرلئے لیکن نائن فائلر کو سہولیات فراہم کردی، وہ اضافی ڈیوٹی دے کر تمام سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکار ایف بی آر کے ود ہولڈنگ ایجنٹ بن کر بلا معاوضہ خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن انہیں سراہنے کے بجائے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر قائمہ کمیٹی برائے ایف بی آر، ایس آر بی اینڈ ٹیکسیشن مسعود نقی نے کہا کہ صنعتکار فاسٹر اسکیم سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن اب مسنگ کیسسز کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ ایف بی آر کورنگی کے صنعتکاروں کے مسائل حل کرنے کیلئے کاٹی میں ایک فوکل پرسن تعینات کرے تاکہ ٹیکس مسائل بروقت حل کئے جا سکیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے پہلے ٹی 20 میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد روایتی حریف بھارت کو پانچ وکٹوں سے شکست دے دی

دبئی، (نوپ انٹرنیشنل اسپورٹس) متحدہ عرب امارات میں ہونے والی 3 میچوں کی سیریز کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے