کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ قوم سن 1965 کی جنگ میں انڈین طیارہ تباہ کرنے والے اور 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں تین اسرائیلی طیارے تباہ کرنے کا کارنامہ انجام دینے والے گروپ کیپٹن پاکستان ایئرفورس سیف الاعظم کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے وصیت کی کہ جب انہیں دفنا یا جائے تو ان کے سینے پر پاکستانی پرچم بھی رکھ دیا جائے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ انہیں بنگلہ دیشی پرچم میں ہی لپیٹ کر دفنا دیا گیا۔ جس سے ثابت ہوگیا ہے کہ کہ دو قومی نظریہ آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس مرد مجاہد نے یہ کیوں نہیں کہا کہ میری میت کے ساتھ بھارتی پرچم رکھا جائے؟ بنگلہ دیش کے قیام کی بنیادی وجہ احساس محرومی تھی ورنہ فطری طور پر بنگالی آج بھی پاکستانی ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ سن 65 کی پاک بھارت جنگ میں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن ملک بھارت کے پانچ لڑاکا جہازوں کو پے درپے زمیں بوس کر دینے والے ایم ایم عالم بھی ایک بنگالی تھے۔ حب الوطنی جانچنے کا اس سے بڑا اور کیا پیمانہ ہو سکتا ہے کہ اسی سال کی عمر میں انسان اپنی آخری سانسیں لے رہا ہو اور پاکستانی پرچم ساتھ رکھنے کی وصیت کرے۔ وہ متحدہ پاکستان کے گروپ کیپٹن سیف الاعظم کی ڈھاکہ میں تدفین کے موقعہ پر بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے ان کی وصیت کی پامالی اور پاکستانی حکومت کی بے حسی پر اپنے رد عمل کا اظہار کر رہے تھے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ وہ آج ساری قوم کے سامنے برملا اس حقیقت کا اظہار کررہے ہیں کہ نہ تو سندھی اور بلوچی غدار ہیں اور نہ ہی مہاجر اور پشتون غدار ہیں بلکہ پاکستان میں بسنے والی کوئی بھی قوم غدار نہیں ہے۔ نا انصافیاں بغاوتوں کو جنم دیتی ہیں۔ بنگلہ دیش محض اس لئے الگ ہو گیا کہ ہم انہیں غدار کہتے تھے۔ حالانکہ وہ اکثریت میں تھے۔ شاید تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہوگا کہ اکثریت، اقلیت سے علیحدہ ہوئی۔ پاکستان کے اصل غدار وہ ہیں جو اسمبلیوں میں براجمان ہیں، ملک کی اشرافیہ ہیں۔ ملک کی پارٹیوں کے اندر بسیرا کر لیتے ہیں اور ہر طلوع ہونیوالے سورج کے پجاری بن جاتے ہیں۔ انگریزوں کے پروردہ وڈیرو شاہی جو آج بھی ہم پر مسلط ہیں۔ اس ملک کے غدار تو وہ ہیں جنہوں نے غریب کے منہ سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے۔ الطاف شکور نے مزید کہا کہ ابھی پاکستانیوں کے دلوں سے متحدہ پاکستان گم نہیں ہوا لیکن حکومت نے متحدہ پاکستان ائر فورس کے ایک بنگالی سپوت سیف الاعظم کے انتقال پر خاموشی اختیار کر کے نہ صرف سیف الاعظم کی روح کو اذیت دی ہے بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے جذبہ حب الوطنی کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: پیپلز پارٹی کا وجود سندھ کی بدقسمتی کے سوا کچھ نہیں۔ کاشف نظامی
https://www.nopnewstv.com/the-existence-of-ppp-is-nothing/