کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین رفیق احمد خاصخیلی نے کہا ہے کہ چینی کی صنعت کو سیاسی عمل دخل سے پاک کیا جائے۔ چینی کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ مافیاز اور حکومتی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ ہے۔ چینی بحران کے ذمہ دار حکومت کے دائیں بائیں موجود ہیں۔ وزیر اعظم احتساب کے عمل کو تیز تر اور شفاف بنائیں، اپنے ساتھیوں کے بجائے عوام کے مفادات کا تحفظ کریں۔ اہم صنعتوں کے اجارہ دار سیاست میں موجود ہیں جن کے اثر و رسوخ کی وجہ سے عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ کسان اور صارفین کے حقوق متاثر ہورہے ہیں شوگر ملز مالکان اور اسٹاکسٹ فائدہ اٹھا رہے ہیں جو انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ چینی کی قیمت کا تعین گنے کی قیمت کے تناسب سے کیا جائے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی پنجاب کین کمشنر کو چینی مافیا کے خلاف اقدامات پر خراج تحسین پیش کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ کے پی کے اور سندھ میں بھی اچھی شہرت رکھنے والے کین کمشنرز تعینات کئے جائیں۔ چینی کی ذخیرہ اندوزی، ایکسپورٹ اور امپورٹ غبن کے ذریعے وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں نے اربوں روپے کمائے ہیں، حکومت انہیں تحفظ فراہم نہ کرے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں رفیق احمد خاصخیلی نے مزید کہا کہ موجودہ دور حکومت میں چینی سمیت ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے، غریب عوام کا جینا محال ہے۔ چینی ہو، آٹا ہو، تعلیم ہو، علاج ہو، پانی ہو، گیس ہو، بجلی ہو یا گڈ گورنس ہو ملک میں کوئی معاملہ ٹھیک نہیں چل رہا مگر نااہل حکمرانوں اور کرپٹ حکومتوں کو اپنی معیاد پوری کرنے دی جا رہی ہے اس امید پر کہ سسٹم چھان کر اچھی قیادت نکال لائے گی۔ یہ انتہائی احمقانہ سوچ ہے کیونکہ بھرکس ملک اور قوم کا نکل رہا ہے۔ سیاستدان چینی کی مارکیٹ کے 50 فیصد سے زائد حصہ اورچینی کی 89 ملز میں تقریبا 40 ملز کے مالک یا شریک کار ہیں۔ صنعتکاروں اور سیاستدانوں کا اتحاد عوام کے مفادات کے منافی ہے۔ شوگر مافیا کسانوں اور صارفین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ محنت اور سرمائے کے حقوق میں توازن پیدا کئے بغیر قیمتوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ زرعی ملک میں چینی کی قیمتیں بڑھنا مافیاز کے طاقتور اور حکومتی گرفت نا ہونے کی علامت ہے۔ حکومت، کسانوں اور صارفین کے فائدہ کے نام پر گنے کی صنعت کو کنٹرول کرنا بند کرے۔ شوگر ملز مالکان ایک بار پھر چینی بحران پیدا کر رہے ہیں۔ کے پی کے کی چار شوگر ملز بند ہو چکی ہیں، سندھ میں شوگر ملز کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے تمام تر اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ گنے کی سرکاری نرخ پر فروخت یقینی بنائی جائے۔ کین کمشنر پنجاب کے اقدامات قابل تحسین ہیں باقی صوبوں میں بھی اہل کین کمشنر مقرر کئے جائیں۔