Home/اہم خبریں/مرتضیٰ بھٹو کی طرح پیپلزپارٹی مجھ پر حملے کروا سکتی ہے۔ بلاول اور مراد علی شاہ نے سرکاری وردی میں پرائیوٹ فورس بنا رکھی ہے۔ حلیم عادل شیخ
مرتضیٰ بھٹو کی طرح پیپلزپارٹی مجھ پر حملے کروا سکتی ہے۔ بلاول اور مراد علی شاہ نے سرکاری وردی میں پرائیوٹ فورس بنا رکھی ہے۔ حلیم عادل شیخ
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ہفتے کے روز قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کے بھائی اور کزن کے فارم ہاؤس پر آپریشن کی کمانڈ سنبھالنے والے ڈی ایس پی انٹی انکروچمنٹ ممتاز مگسی کا کرنمل ریکارڈ سامنے آگیا۔ قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے اپنے جاری کردہ وڈٰیو بیان میں کہا ہے کہ فارم ہاؤسز پر آپریشن کی کمانڈ کرنے والے ڈی ایس پی انٹی انکروچمنٹ ممتاز مگسی، ڈکیتی، اغوا، کار لفٹنگ، پولیس مقابلوں، رہزنی سمیت دیگر کیسز میں مطلوب رہا ہے جیل بھی کاٹ چکا ہے سپریم کورٹ کی جانب سے نکالا جا چکا ہے حلیم عادل شیخ نے دو روز قبل کی وڈیوز بھی جاری کی جس میں اس جرائم پیشہ ڈی ایس پی ممتاز مگسی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ حلیم عادل شیخ نے اپنے جاری کردہ وڈیو بیان میں کہا وزیر اعلیٰ سندھ نے ڈاکوؤں کو بھیج کر میرے بھائی اور کزن کے فارم ہاؤسز کو مسمار کروایا ہے۔اسٹے آرڈر ہونے کے باوجود سندھ حکومت نے قانونی زمین پر غیر قانونی کارروائی کر کے کروڑوں کا نقصان پہنچایا ہے۔ اس روز ڈی ایس پی ممتاز مگسی کو بھیجا گیا تھا جو ایک ڈاکو اور اشتہاری مجرم رہ چکا ہے۔ میں میڈیا پر تھا جب معلوم ہوا کہ سفید کپڑوں میں لوگ ہمارے فارم ہاؤسز سے سامان گاڑیوں میں ڈال رہے ہیں سامان چوری کر رہے ہیں تو جب میں پہنچا تو دیکھا ایک ڈٰی ایس پی ممتاز مگسی موجود تھا میں پوچھا تھا اس نے بتایا کہ انٹی انکروچمنٹ کے ڈی ایس پی ہیں جس کے ساتھ کچھ سادہ لباس ڈاکو بھی موجود تھے۔ ڈی ایس پی ممتاز مگسی ایک ملزم ہے۔ جس کے خلاف بہت ساری ایف آئی آر درج ہیں۔ گڈاپ تھانے، سچل تھانے، گزری تھانے سمیت مختلف تھانوں پر ڈکیتی، رہزنی، کار چوری، پولیس مقابلوں کی ایف آئی آرز درج ہیں۔ ایک پرانا ڈکیت ہے جس کو سپریم کورٹ نے نوکری سے نکالا تھا جس کو بحال کر کے اس کاموں پر لگایا گیا ہے۔ گزری تھانے، سچل تھانے سمیت دیگر تھانوں پر بھی کرمنل ریکارڈ ہے۔ انٹی انکروچمنٹ بلاول اور مراد علی شاہ کی پرائیوٹ فورس ہے۔ حیدر شہنشاہ بھی ان کے ساتھ شامل تھا جو خالد شہنشاہ کا بھائی ہے۔ پولیس کے نام پر ڈاکوؤں کو بھیجا گیا۔ پیپلزپارٹی کرمنل ونگز کے لوگوں کو انٹی انکروچمنٹ میں بھرتی کروا کے سرکاری زمینوں پر قبضے کروانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ مرتضیٰ بھٹو کے قتل میں مراد علی شاہ کے والد عبداللہ شاہ صاحب تھے جس کی رپورٹ ان دنوں میں آئی تھی۔ بلاول زرداری، بلاول کے پاس اس طرح کے بہت سارے ڈاکو سرکاری محکموں رکھے گئے ہیں جن کو میرے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ مرتضیٰ بھٹو کی طرح یہ لوگ مجھ پر بھی اسی طرح کے حملے کروا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو اپیل کرتا ہوں سندھ میں سرکاری زمینوں پر قبضے پر جوڈیشنل کمیشن بنایا جائے جس کی شروعات مجھ سے کی جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پنجل خان جونیجو جو ایک ہیڈ کانسٹیبل تھا اس کو ڈی آئی جی لگوا کر عوام کو زلیل کروایا تھا یہ لوگ بھی اسی طرح لوگوں کو ترقیاں دیکر ناجائز کام کروا رہے ہیں۔ بہت جلد ان کا بھی حشر بہت خراب ہوگا۔ دوسری جانب خوفزدہ پیپلزپارٹی کی اپوزیشن لیڈر سندھ کے خلاف مزید انتقامی کارروائیاں کرتے ہوئے ایک اور مقدمہ درج کر لیا۔ پی ایس گڈاپ پر حلیم عادل شیخ اور فارم ہاؤسز کے سیکیورٹی انچارج رمضان لاکھو سمیت 200 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ حلیم عادل شیخ کے ترجمان محمد علی بلوچ نے جاری اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ فارم ہاؤسز کے سیکیورٹی انچارج رمضان لاکھو نے فارم ہاؤس پر لوٹ مار ہونے پر ایف آئی آر کے لئے گڈاپ تھانے پر وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف غیر قانونی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرنے کے کی درخواست دی تھی۔ پولیس نے مدعی کی ایف آئی آر وزیر اعلیٰ کے خلاف درج کرنے کے بجائے الٹا درخواست گذار پر ہی پرچہ کاٹ دیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایف آئی آر میں سپر ہائی وے روڈ بلاک کرنے و دیگر کے دفعات شامل کئے گئے ہیں۔ اس سے قبل میمن گوٹھ پی ایس پر بھی ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ سندھ پولیس پیپلزپارٹی کی سیاسی غلام بن چکی ہے۔ انصاف کے لئے عدالت جائیں گے لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف مقدمات کریں گے۔ وزیر اعلی سندھ نے انتقامی کارروائیاں کروائی ہیں ان کے خلاف عدالت جائیں گے۔ ہمارے حوصلے بلند ہیں انتقامی کارروائیوں سے عوام کی حقیقی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔ ترجمان نے مزید کہا پیپلزپارٹی نے مزید انتقامی کارروائیوں کے لئے اس کے علاوہ مزید خاموش ایف آئی آر بھی بنا رکھی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے کرائی جانے والی لوٹ مار کے خلاف حلیم عادل شیخ کے حلقہ اور ملیر کے عوام نے جب مُظاہرہ اور دھرنا دیا تو حلیم عادل شیخ نے روڈ کُھلوایا تھا نا کہ بند کروایا تھا جس کا ایک اور جھوٹا کیس بنایا گیا ہے۔