کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں یکساں نصاب و نظام تعلیم کا اقدام خوش آئند ہے۔ سندھ حکومت کو یکساں نظام تعلیم سے ڈر کیوں لگتا ہے؟ یکساں نظام تعلیم مبنی بر انصاف ہے اس کو عملی جامہ پہنانے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ پنجاب میں سارے اچھے کام لپک کر کئے جاتے ہیں اس لئے ترقی میں یہاں کے محنتی لوگ سب سے آگے ہیں۔ کوٹہ سسٹم کا فائدہ اٹھانے والے مسابقت کے قابل نہیں رہتے۔ پیپلز پارٹی اپنے ووٹرز کو دانستہ جاہل رکھنا چاہتی ہے۔ جئے بھٹو کا نعرہ لگا کر حکومت میں آنے والوں کا بھٹو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عوام اس نعرے کے پیچھے دجل و فریب کو پہچانیں۔ یکساں نظام تعلیم کا سب سے زیادہ فائدہ اندرون سندھ کے لوگوں کو ہوگا ورنہ کیمبرج سسٹم انہیں معاشی ترقی کی دوڑ میں پیچھے دھکیل دے گا۔ سندھ کے لوگوں کو دوست اور دشمن میں تمیز کرنی ہوگی۔ ماہرین تعلیم کے ذریعے پہلے تعلیم دینے کے مقاصد طے کئے جائیں۔ تعلیم میں تربیت کا عنصر ڈالا جائے۔ آٹھویں جماعت کا امتحان بورڈ کے ذریعے لیا جائے۔ بچوں میں مسابقت کی بجائے تعاون کا رجحان پیدا کیا جائے۔ جاپان اور فن لینڈ کے ماہرین تعلیم کی مدد لی جائے۔ پرائیویٹ بورڈز کو ختم کیا جائے۔ ملک میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں جہاں طالب علموں کو عملی تعلیمی بھی دی جائے۔ پورے صوبے میں تعلیم کو مفت کیا جائے۔ تمام اسکولوں کو والدین کے زیر انتظام کیا جائے جو اسکول کے اخراجات کے مطابق فیس طے کریں۔ اساتذہ کے انتخاب کے لئے معیار تعلیم مقرر کیا جائے اور سال میں کم از کم پچاس گھنٹے انہیں مزید تعلیم حاصل کرنے کا پابند کیا جائے۔ اساتذہ کو مسابقتی امتحان کے ذریعے منتخب کیا جائے۔ اساتذہ کو الیکشن ڈیوٹی میں استعمال نہ کیا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پنجاب میں یکساں نصاب تعلیم کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے پاسبان کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے مزید کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور یکساں نصاب تعلیم قومی ضرورت ہے۔ پاکستان میں نظام تعلیم کے اندر طبقاتی تفریق ہے جس کے خاتمہ اور قوم کو یکجا کرنے کیلئے یکساں نصاب لازم ہے۔ پاکستان میں 6 کروڑ سے زائد بچے پرائمری اور دو کروڑ سے زائد بچے سیکنڈری لیول کی تعلیم سے محروم ہیں۔ ہمارے ہاں نظام تعلیم نہ صرف نقائص سے دوچار ہے بلکہ عدم توجہی کا بھی شکار ہے۔ حکومت ناکام معاشی اور سیاسی پالیسیوں کی طرح تعلیمی امور میں بھی روایتی نا اہلی کا اظہار کرکے معاملات ناقابل حل بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یکساں تعلیمی نصاب نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایک صوبے میں الگ الگ نصابی کتب اور الگ الگ تعلیمی معیار ہے۔ ہر صوبہ اپنی اکثریتی زبان میں مضامین کو اہمیت دیتا ہے اور اسی میں طلبہ کو جانچتا ہے جس کی وجہ سے طلبہ کو دوسرے صوبوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غیر ملکی پلیٹ فارم پر بھی اپنے آپ کو پیش کرنا ایک مشکل عمل ہوتا ہے۔ پورے ملک میں یکساں نصاب کے تحت نظام تعلیم رائج کیا جائے تا کہ اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہر پاکستانی نوجوان کم از کم بی اے تک مفت تعلیم حاصل کرسکے۔ اساتذہ کو بہتر ماحول اور بہتر تنخواہیں دی جائیں۔