ٹنڈو آدم (رپورٹ: رضوان احمد غوری) ٹنڈو آدم ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیرِ انتظام حرا پبلک اسکول ٹنڈو آدم میں فلسفہ حج اور قربانی کو نئی نسل کو سمجھانے اور ان میں اس جذبے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی جنرل سیکرٹری ٹنڈو آدم ایجوکیشنل مشتاق احمد عادل تھے۔ پروگرام میں طلباء و طالبات نے تقاریر، ٹیبلوز اور مناسک حج کی ادائیگی کو نمونے کے طور پر پیش کیا اور حج اور قربانی کے پیغام کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر مشاق احمد عادل اور پروفیسر احمد بلال غوری نے خطاب کیا، مقررین کا کہنا تھا کہ حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور ہر صاحب استطاعت/ صاحب مال مرد و عورت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ حج ایک اجتماعی عبادت ہے اور اس میں مسلمان پوری دنیا سے اللہ رب العزت کے حضور عاجزی اور انکساری سے احرام میں بیت اللہ مکۃ المکرمہ میں پیش ہو کر یہ اقرار کرتے ہیں کہ جو کچھ ہے وہ اللہ رب العزت کا ہے تعریف کے لائق، عبادت کے لائق صرف اور صرف اللہ رب العزت ہے، اس موقع پر ناصرف اپنے پچھلے گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے بلکہ اللہ رب العالمین سے نیکی کرنے اور آئندہ گناہوں سے بچنے کی توفیق طلب کی جاتی ہے۔ مقررین کا یہ بھی کہنا تھا کہ قربانی صرف گوشت کھانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایثار و قربانی کی اس لازوال داستان کو یاد کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا دن ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اپنی سب سی محبوب چیز حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کیا تو گویا اللہ کی راہ محبوب سے محبوب قیمتی چیز قربان کرنے کا جذبہ اور غریبوں، مسکینوں اور ناداروں کی مدد کا جذبہ عیدالاضحٰی کا پیغام ہے، جو لوگ بھی قربانی کریں وہ اپنے غریب رشتے داروں اور ہمسایوں کو محروم نا رکھیں۔ پروگرام کا اختتام اس دعا پر ہوا کہ اے اللہ ہمیں معاف کردے ہمارے عزیز و اقارب جو تیرے پاس آگئے ہیں انکی مغفرت فرما دے اور اپنے گھر کی رونقیں دوبارہ بحال کر دے اور ہماری بد اعمالیوں کی وجہ سے جو آفات بیماریاں آگئی ہیں ان کو ختم فرما دے، ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے والا بنا دے اور ہم سب کو حج بیت اللہ کی سعادت نصیب فرما دے، آمین۔