کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کشور ناہید کی کتاب ”بری عورت کی کتھا“ کی تقریب اجراء کی نظامت کے فرائض قاسم بگھیو نے ادا کیے جبکہ شرکا نے گفتگو میں صاحبِ کتاب کشور ناہید اور معروف ادیبہ نور الہدیٰ شاہ شامل تھے۔ اس موقع پر نظامت کے فرائض ادا کرتے ہوئے قاسم بگھیو نے کہا کہ یہ کتاب ان کے لیے ہے جو ادب سے باقاعدہ وابستہ ہیں جو فنونِ لطیفہ سے وابستہ ہیں۔ خاص طور پر وہ خواتین جنہوں نے پوری دنیا میں جدوجہد کی۔ گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے نورالہدیٰ شاہ نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ یہ ہجوم جو ہر طرف دکھائی دیتا ہے اس میں بری عورت کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ لفظ بری عورت محض لفاظی نہیں ہے۔ تاریخ میں ان الفاظ کے معنی بدل جائیں گے ہر عورت جو بولنے والی ہوگی جو سوچنے والی ہوگی وہ یہ بات فخریہ کہے گی کہ ہاں میں بری عورت ہوں۔ میں ہوں گنہگار عورت۔ صرف کشور ناہید ہی نہیں عاصمہ جہانگیر، فہمیدہ ریاض جو آمریت کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئیں۔ آرٹ کے کسی بھی شعبے سے آپ تعلق رکھتے ہیں چاہے آپ عشقیہ شاعری کریں الفاظ لکھنے سے پہلے ایک فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ میں کس طرف کھڑا ہوں۔ اختلاف یا انکار کرنے والوں کی طرف کھڑا ہوں یا ہتھیار ڈالنے والوں کی طرف۔ جب تک یہ فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک ایسی کتابیں نہیں لکھی جاسکتی ایسی شاعری نہیں کی جاسکتی۔ کشور ناہید نے نورمقدم کے قتل پر جو نظم لکھی ہے یہ اضطرابی انداز ہے لکھنے کا جس میں الفاظوں کو گوٹتے اور بکھرے احساسات کو سمیٹ کر مختصر انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی لکھنے والی بچیوں کی جو للکار، انداز اور گہرائی ہے وہ قابل فخر ہے اور سندھ میں بھی اس رجحان کا بلند ہونا اچھی بات ہے، مجھے خوشی ہے کہ نئی نسل دھرتی، زمین اور زبانوں سے جڑنے کی بات کررہی ہے، آج کشور ناہید سے کئی کشور ناہید جنم لے رہی ہیں، صاحبِ کتاب کشور ناہید نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا میں متوسط طبقے کی عورت ہوں۔ سید گھرانے سے ہوں جہاں لڑکی کو سات سال کی عمر میں برقع پہنا دیا جاتا ہے۔ کہیں باہر آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ایسے میں میری بہترین ساتھی کتاب تھی۔ کتاب نے میرے اندر محبت کی وہ شمع جلائی مجھے کسی اور کی محبت کی ضرورت نہ رہی۔ پڑھنے کے لیے ہر دفعہ دھرنا دیا جاتا تھا۔ ایم اے کے بعد میں نے آزادی حاصل کی۔ جرگہ کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ آج بھی جرگے میں جو خواتین کے خلاف فیصلے ہو رہے ہیں اسے سوسائٹی قبول کرلیتی ہے، انہوں نے کہا کہ عورتوں کے مسائل جاننے اور ان کے حل کے لیے میں پاکستان کے ہر چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں گئی جہاں میں نے دیکھا کہ ایک سات ماہ کی حاملہ عورت پانی کا مٹکا اٹھائے گھر کی جانب رواں دواں ہے میں نے اس سے کہا کہ اس سے تمہارے بچے کی جان بھی جاسکتی ہے تو اس نے جواب دیا کہ اگر میں پانی گھر لے کر نہیں گئی تو بھی میرا شوہر اس بچے کے ساتھ ساتھ میری جان بھی لے لے گا۔