کراچی (نوپ نیوز) عافیہ موومنٹ کی چیئرپرسن اور ایپی لیپسی فاؤنڈیشن کی صدر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ خصوصی افراد اور بچوں میں خداداد صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔ دنیا میں خصوصی بچوں نے زبردست کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اسپیشل بچوں سے خصوصی لگاؤ تھا۔ عافیہ نے اپنے ملک کے بچوں کے لئے جو تعلیمی منصوبہ بنایا تھا اس میں بھی خصوصی بچوں کو نمایاں جگہ دی گئی تھی۔ ملکی سطح پر توجہ اور وسائل کی فراہمی سے ایسے بچوں کی فطری صلاحیتوں کو پروان چڑھا کر ملک و ملت کو ترقی کی معراج پر لے جایا جا سکتا ہے۔ ایسے افراد میں قدرت ایک مخصوص صبر، ہمت، حوصلہ، آگے بڑھنے اور دنیا کے برابر آن کھڑے ہونے کی قوت و صلاحیت پیدا کر دیتی ہے۔ یہ افراد اپنی جرأت و ہمت کے ساتھ وہ کام کر دکھاتے ہیں جو عام اور صحت مند افراد بھی نہیں کر پاتے۔ یہ افراد یقیناً ہمت و جرأت کا ایک روشن نشان ہیں جن پر پوری قوم کو فخر ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے خصوصی بچوں کے عالمی دن کے حوالہ سے "سلولرنرز اور خصوصی بچوں کے ادارے” کے دورے کے موقعہ پر ادارے کے منتظمین اور بچوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے تمام بچوں کو”آئی ایم عافیہ” کی کیپ پہنائی اورادارے کے منتطم رفیع میمن کو چیک بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کو مخصوص یا سپیشل اس لئے کہا گیا ہے کہ ہر ایک کی توجہ خاص طور پر ان کی طرف ہوتی ہے کہ وہ خود کو کبھی تنہا یا دوسروں سے الگ تھلگ خیال نہ کریں۔ بچے کوئی بھی ہوں قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے آگے چل کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ ہماری تھوڑی سی توجہ انہیں کارآمد شہری بنا سکتی ہے۔یہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں ان پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ہماری طرح اچھی بھر پور اورخوبصورت زندگی گزارنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے ان صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کے لئے انہیں ہماری توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے حقوق کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جانا چاہئے اور ان کے مسائل پر غور کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے ملک کے تمام بچوں کو ترقی کی بلندیوں پر دیکھنا چاہتی تھی اور اسی مقصد کے حصول کے لئے کوشاں تھی۔ ایسے بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے جو ادارے محدود سطح پر کام کر رہے ہیں ان بچے بچیوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعے معاشرے کا مفید شہری بنانا صرف حکومت کاہی نہیں ہمارا بھی فرض بنتا ہے۔صاحب حیثیت افراد ان اداروں کی مالی امداد کر کے خصوصی بچوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو نے کے قابل بنا سکتے ہیں۔