آئے روز جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر دیکھیں تو جنسی زیادتی کا واقعہ ہوگیا۔ اخبارات اٹھائیں تو جنسی زیادتی کی سرخیاں، ٹی وی آن کریں تو جنسی زیادتی کے واقعات کی بریکنگ نیوز۔ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ ہمارا معاشرہ کس طرف چل پڑا ہے؟ جب سوچتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ننھی کلیاں مسلی جارہی ہیں۔ ظلم پر ظلم یہ ہے کہ اپنی جنسی حوس پوری کر کے معصوم پھولوں کو ہمیشہ کے لیے چپ کرا دیا جاتا ہے۔ وطن عزیز میں انصاف ملنا مشکل ہے یہ سوچ کر گھر والے بھی چپ کر جاتے ہیں۔ اگر کوئی انصاف مانگتا بھی ہے تو اسے چپ کرانے کے لیے کیا کیا نہیں کیا جاتا؟ کسی کو پیسوں کا لالچ، کسی کو نوکری کا لالچ، کسی کو دھکمی دے کر چپ کرایا جاتا ہے تو کسی کو مار ہی دیا جاتا ہے۔ وطن عزیز میں جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات بڑھنے میں مجرموں کو سزا نہ ملنا اور انٹرنیٹ کا آزادانہ استعمال ہے۔ فحش مواد تک رسائی اتنی آسان کیوں ہے؟ کون اسکا ذمہ دار ہے؟ موبائل پر ویب سائیٹس پر فحش اور غیر اخلاقی اشتہارات کیوں انکا کیا مقصد ہے؟ ذرہ یہ سوچیں تو سہی۔ جو جرم کرتا ہے وطن عزیز میں آسانی سے اسے چھوٹ مل جاتی ہے وہ دندناتا پھرتا ہے جرائم پیشہ افراد کو شہہ ملتی ہے اور جرم بڑھتا ہے۔ ہمارے ملک میں پیمرا نامی ادارہ بھی ہے جو پتہ نہیں کس کام کے لیے ہے؟ کیونکہ ٹی وی پر تو سب دیکھایا جاتا ہے۔
ڈراموں میں کس چیز کی ترغیب دی جارہی ہے؟ کیسے اشتہارات چلتے ہیں؟ یہ پیمرا کو دیکھنا چاہیے۔ انٹرنیٹ پر متعلقہ اداوں کو کنٹرول ہونا چاہیے انکا کام ہے کہ دیکھیں کونسی سائیٹس کیا کر رہی ہیں؟ جنسی زیادتی کے مجرموں کو کڑی سزائیں ملیں تو کوئی سبق سیکھے۔ یہاں الٹی گنگا بہتی ہے سچ کے ساتھ چلنے والوں کو چپ کرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اگر وطن عزیز میں امن کی فضا برقرار رکھنی ہے تو متعلقہ اداروں اور ہم سب کو اس ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ جو لوگ دوسروں کو اپنی جنسی حوس کا نشانہ بناتے ہیں یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہمارا بھی خاندان ہے اگر کوئی انکے ساتھ کچھ ایسا کرے تو کیا ہوگا؟ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہر پلیٹ فارم پر جنسی زیادتی کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اگر حالات بگڑ گئے تو مشکل ہو جائیگی۔ اس ظلم کےخلاف جس سے جتنا کام ہوسکے اسے کرنا چاہیے۔ جہاں تک سچ کو دبانے کی بات ہے تو انکو کھلا پیغام ہے جو کر سکتے ہیں کریں۔ سچ کو دبایا نہیں جاسکتا اور ظلم کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ جو ظالم کیساتھ ہوتے ہیں وہ اپنے انجام کی فکر کریں کل اللہ کو جواب دینا ہے۔ جو لوگ سچ کے ساتھ ہیں انکو سلام پیش کرتا ہوں۔ اللہ پاک ہم سب کو سچ اور مظلوم کا ساتھی بنائے اور ظالم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بننے کی توفیق دے۔ آمین۔