تازہ ترین
Home / اہم خبریں / ڈاکٹر سعد خالد نیاز جیسے پیشہ ور ڈاکٹر کا صدارتی ایوارڈ واپس کردینا افسوسناک ہے۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

ڈاکٹر سعد خالد نیاز جیسے پیشہ ور ڈاکٹر کا صدارتی ایوارڈ واپس کردینا افسوسناک ہے۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ ڈاکٹر سعد خالد نیاز جیسے نامور اور پیشہ ور ڈاکٹر کا مایوس ہوکر احتجاجا اپنا صدارتی ایوارڈ واپس کر دینا افسوسناک ہے۔ حکومت اس اقدام کا فوری نوٹس لے کر ڈاکٹر سعد خالد کے موقف کو سنے اور سمجھے۔ حکومت کورونا دور میں فرنٹ لائن ورکرز کی خدمات کو تسلیم کرنے سے کیوں کتراتی ہے؟ عوام الناس کو صحت کی سہولیات کی فراہمی حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں بدعنوانی اور بدانتظامی اپنے عروج پر ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

فارماسیوٹیکل مافیا اور پرائیویٹ ہسپتال موجودہ حکومت کی سرپرستی میں عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ پاکستان میڈیکل کونسل (پی ایم سی) بدعنوانی، اقربا پروری اور نا اہلی کا گڑھ بن چکی ہے۔ ہزاروں ڈاکٹرز کئی برسوں سے کرپٹ پی ایم سی سے اپنے تجدیدی سرٹیفکیٹ کے منتظر ہیں، چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں۔ تجدیدی سرٹیفکیٹ کے اجراء میں رشوت خوری سمیت متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ پی ایم سی جیسے بد عنوان ادارے کی اصلاح کی جائے۔ الطاف شکور نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوویڈ 19 سے نبرد آزما تمام بہادر ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکس کی خدمات کو سرکاری طور پر باضابطہ تسلیم کیا جائے۔

اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے ہیلتھ ورکرز پر مزید ٹیکس لگانا بند کیا جائے۔ حکومت صحت جیسے اہم شعبے کو نظر انداز نہ کرے۔ اپنی رہائشگاہ پر ہونے والی ایک میٹنگ میں معروف طبی ماہر امراض شکم اور جگر ڈاکٹر سعد خالد نیاز کی جانب سے صدارتی ایوارڈ کی واپسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر سعد خالد کی جانب سے ایوارڈ کی واپسی ایک سنگین احتجاج ہے جس کا نوٹس حکومت کو فوری لینا چاہئیے۔ ڈاکٹر سعد خالد نے طبی عملے کی خدمات کا اعتراف نہ کرنے پر تمغہ امتیاز واپس کرنے کے لیے صدر مملکت عارف علوی کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا میں حکومت پاکستان کی جانب سے طبی عملے کی خدمات کو خاطر خواہ انداز میں نہیں سراہا گیا جس سے انہیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے صدر پاکستان اور تجویز کردہ افراد سے درخواست کی تھی کہ وہ طبی برادری کی خدمات اور قربانیوں کو تسلیم کریں اور اگلے سالوں کے ایوارڈز میں اس پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائیں۔

ڈاکٹر، نرسیں اور پیرا میڈیکل سٹاف امید کر رہے تھے کہ حکومت کی جانب سے کچھ مثبت الفاظ کہے جائیں گے۔ کیونکہ کوویڈ کے خلاف حکومت کی کامیابی کا دعوی طبی برادری کی قربانیوں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایوارڈز پانے والے 126 افراد میں صرف دو ڈاکٹرز کا نام طبی عملے کی خدمات کو یکسر نظر انداز کرنا ہے۔ کورونا وبا کے دوران ملک بھر میں اب تک 102 ڈاکٹر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ الطاف شکور نے کہا کہ وبا کے دوران اپنی جان داؤ پر لگانے والے ڈاکٹروں کو ایوارڈ دیتے وقت نظر انداز کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

پاکستان کا مقامی کاٹن بنولے کے سیزن سے پہلے ہی امریکہ اور برازیل سے کپاس کی بڑی خریداری کا فیصلہ

کراچی: پاکستان کی کپڑا سازی کی صنعت نے مقامی اوٹائی کا موسم پوری طرح شروع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے