Home/اہم خبریں/سندھ میں اپوزیشن جماعتیں ایک جانب گجر نالے کے متاثرین کی بات کرتے ہیں دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز کی قرارداد کی مخالفت کرتے ہیں۔ سعید غنی
سندھ میں اپوزیشن جماعتیں ایک جانب گجر نالے کے متاثرین کی بات کرتے ہیں دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز کی قرارداد کی مخالفت کرتے ہیں۔ سعید غنی
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے سندھ اسمبلی کے اجلاس اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں اپوزیشن جماعتیں ایک جانب گجر نالے کے متاثرین کی بات کرتے ہیں دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز کی قرارداد کی مخالفت کرتے ہیں۔ آج سندھ اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد میں حکومت سندھ کو کہا گیا ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے جس سے قانون شکنی کو روکا جاسکے اور ایسی عمارتوں کو ریگیولرائیزڈ کیا جاسکے جو ماضی میں بن چکی ہیں اور اب وہاں لوگ آباد ہیں۔ سندھ حکومت ناظم جوکھیو قتل کیس کے مدعی اس کے بھائی افضل جوکھیوسے رابطے میں ہے اور ہم نے پہلے دن سے ہی ان پر واضح کر دیا ہے کہ سندھ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز نے ایک قراردار کے ذریعے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نسلہ ٹاور سمیت ایسی سینکڑوں عمارتیں جو صوبے بھر میں ہیں ان کو قانونی تحفظ کی فراہمی کے لئے قانون سازی کرے اور اس قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو بھی غیر قانونی عمارتیں بن چکی ہیں ان کے پس پشت افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ اپوزیشن نے صرف اس قرارداد کی مخالفت اس لئے کی کہ یہ پیپلز پارٹی نے پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن یا تو کھڑے ہوکر یہ بول دے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں جن جن عمارتوں کے معاملہ میں چھوٹی بڑی وائلیشن ہوئی ہے ان تمام کو گرا دو اور لوگوں کو بے گھر کر دو۔ انہوں نے کہا کہ آج کی قرارداد کے ذریعے ہم نے ان تمام لوگوں کو کچھ ریلیف دینے کی بات کی ہے، جن کے سر پر تلواریں لٹک رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی قرارداد سے لوگوں کے لئے ایک امید پیدا ہوئی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے بھی آج کھڑے ہوکر اس قرارداد کی مخالفت کر رہی تھی، جبکہ ٹی پی ٹو جوکہ میرے حلقہ میں ہے اور جس وقت خود ایم کیو ایم کے وزیر محمد حسین اس پر قبضہ کروا رہے تھے تو میں اس وقت یو سی ناظم تھا اور میں نے سٹی کونسل میں اس کے خلاف آواز اٹھائی تو مجھے مارا پیٹا گیا اور میری گاڑی پر فائرنگ کروائی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس شہر میں پارکس، گراؤنڈ، سڑکوں اور نالوں پر چائنا کٹنگ کی روایت ایم کیو ایم نے ڈالی ہے اور آج وہ کھڑے ہوکر اس کو زیادتی قرار دے رہے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم اس قانون کے تحت لوگوں کو قانون کے مطابق تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ہزاروں کی تعداد میں ایسی عمارتیں ہیں جہاں کچھ نہ کچھ قانون سے ہٹ کر کام کیا گیا ہوگا اور اس میں آباد لاکھوں افراد پر تلواریں لٹک رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اگر اپوزیشن ارکان قرارداد پڑھ لیتے تو ایک بھی رکن اس کی مخالفت نہیں کرتا۔ لیکن اپوزیشن ارکان کے ذہنوں میں کنفیوژن تھا۔ ایک طرف وہ نسلہ ٹاورگرانے کے مخالف تھے دوسری جانب قرارداد کی مخالفت کر رہے تھے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا گجر نالہ متاثرین کی بحالی کے لئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلٰی سندھ اور سندھ کابینہ نے اعلان کیا تھا کہ ان کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی اور ان کی آباد کاری کی جائے گی اور ہم نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ وہ ہمیں بحریہ ٹاؤن کے جو پیسہ جو اصل میں سندھ کے ہیں اس میں سے ہمیں 10 ارب روپے دے تو ہم ان کی بحالی کا کام شروع کرسکیں لیکن معزز عدلیہ نے ہماری یہ درخواست قبول نہیں کی، جس کے بعد وفاق کے ساتھ بنائی گئی کمیٹی نے دو سال کے لئے ان متاثرین کو کرایہ کی ادائیگی کی منظوری دی۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہم متاثرین کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔ ناظم جووکھیو قتل کیس کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ جو لوگ اس غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہیے۔ قبل ازیں اسمبلی میں قرارداد پر خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ ہر شخص عدالتوں کے فیصلوں کو ماننے کا پابند ہے۔ اگر ایسا کوئی قانون نہیں ہے جس سے ان لوگوں کو تحفظ ہو تو اسمبلی کا فرض ہے کہ ایسے قانون بنائے۔ سعید غنی نے کہا کہ یا تو یہ فیصلہ کرلیں کہ جہاں غیر قانونی ہے۔ ان کو بلڈوزر کردیا جائے۔ یہ ایک نسلہ ٹاور کا معاملہ نہیں ہے بلکہ شہر میں ہزاروں ایسی عمارتیں ہیں جو آباد ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس اسمبلی میں پورے پاکستان کے لیے قانون نہیں بنا سکتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اگر یہاں بنی گالا کی ریگولرائزیشن ہے۔ جس کے لئے سپریم کورٹ میں جعلی لیٹر دیا گیا۔ اسلام آباد میں بھی ایک اور عالیشان بلڈنگ ہے۔ اس کو بھی ریگولرائز کر دیا گیا۔ بحریہ ٹاؤن میں بھی تھرڈ پارٹی انٹرسٹ پیدا ہوگیا۔ اگر بڑے لوگوں کے ریگولرائز ہوسکتے ہیں۔ تو پھر قانون سازی کرکے آباد ہزاروں عمارتوں کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وجہ سے انسانی المیہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ہمیں اپنے لوگوں کے مسائل سامنے رکھتے ہوئے اس کو تحفظ دینا چاہیے۔ سعید غنی نے کہا کہ سزا ان کو ملنی چاہیے جنہوں نے قبضے کروائے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ نعمت اللہ خان کے ایک پٹیشن موجود ہے اس پٹیشن میں سارے قبضوں کا ذکر ہے۔ یہ کوئی سیاسی ایشو نہیں ہے۔ چھتوں کو بچانا سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قرارداد میں ڈال دیں کہ جو افسران اس غیر قانونی کام میں ملوث ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان سیاسی لوگوں کو بھی سزا دیں جو اس میں شامل تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ معزز عدلیہ کا فیصلہ ہم من و من ماننے کو تیار ہیں لیکن ہمارے پاس لاکھوں لوگوں کے گھر مسمار کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اگر ہم لوگوں کی چھتوں کو نہیں بچا سکتے تو ہمیں اسمبلی میں رہنے کا کوئی حق نہیں اور کم از کم یہ اختیار تو میرے پاس ہے کہ میں استعفیٰ دے دو۔ یہ اختیار کوئی مجھ سے نہیں چھین سکتا ہے۔ ناظم جوکھیو قتل کیس کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت ناظم جوکھیو قتل کیس کے مدعی افضل جوکھیوسے رابطے میں ہے، میں دو روز قبل خود گیا تھا اور ان سے پوچھا ہے کہ کون دھمکیاں دے رہا ہے بتائیں ہم کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صرف وکیل کو ایک فون آیا تھا۔ ہم نے تفصیلات مانگی تو کہا گیا کہ بعد میں بتائیں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم اپنے ایم پی اے کے ساتھ نہیں مدعی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پی ٹی آئی اس پر سیاست کر رہی ہے، ان کا کردار اس وقت کہا تھا جب ان کے وفاقی وزیر امین گنڈا پور نے اسرار گنڈہ پور کو قتل کروایا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں رویہ جمہوری ہے، ہم اس حوالے سے تحریک انصاف کا کسی صورت مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اعلیٰ درجے کے بدتمیز لوگ ہیں اور صرف ایوانوں میں ہلڑ بازی کرکے میڈیا میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایوان کو آئین اور قوانین کے تحت چلا رہی ہے۔