کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اثاثے غیر ملکیوں کے پاس گروی رکھنا ملکی سالمیت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ ملک بھر کے باشعور عوام، محب وطن، سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹیرینز اور گروی رکھے جانے والے اداروں کے سربراہان اس فیصلہ کے خلاف موثر آواز بلند کریں۔ اتنی اہم ترین تنصیبات پر ملک کے ان اداروں کی اجازت لینا بھی لازمی ہونا چاہئیے۔ ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہا کہ کابینہ بہت آسانی سے بنا سوچے سمجھے ایسے فیصلے کس طرح کر لیتی ہے؟ اسٹیٹ بینک کے معاملے پر بھی کابینہ نے پانچ سات منٹ میں منظوری دے دی تھی حالانکہ اس طرح کے فیصلے پاکستان کی سلامتی اور سیکیورٹی کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ اپنے ملک کے اداروں اور اثاثوں کو گروی رکھ کر قرضے لینا انتہائی تباہ کن اور غلط حکمت عملی ہے۔ پھر بھی اگر قرضہ لینا اتنا ہی ضروری ہے تو سب سے پہلے حکمران اپنی عیاشیاں ختم کریں۔ حکمت عملی اور فوجی اثاثوں کے بجائے نان اسٹریٹیجک اثاثوں مثلا ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس، وزیر اعلی ہاؤسز، پارلیمنٹ ہاؤس اور گورنر ہاؤسز کو گروی رکھ دیا جائے۔ پاکستانی ایئر پورٹس اور موٹر ویز وہ جگہیں ہیں جو امریکا کو افغانستان پر حملوں کیلئے درکار ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی نہ کر پانے کی صورت میں پاکستانی ایئر پورٹس، موٹر ویز اور دیگر اہم تنصیبات یک لخت غیر ملکیوں کے ہاتھوں میں چلی جائیں گی، جس کا خمیازہ ملک و قوم اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ حکومت کو سری لنکا کے حالات سے سبق سیکھنا چاہئیے جس کی ایک اہم پورٹ ادائیگی نا کر سکنے کی صورت میں ننانوے سال کے لئے چین کے استعمال میں دے دی گئی۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز ماہر معاشیات، انسٹیتیوٹ آف بزنس مینجمنٹ، سی ای ایس ڈی کی ڈین، انڈیپیندنٹ اکنامنسٹس اینڈ پالیسی پریکٹیشنرز ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے پاسبان میڈیا سیل کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ 1.8 ٹریلین روپے کے سکوک بانڈز جاری کرے جس کے عوض ایم ون، ایم تھری، اسلام آباد ایکسپریس وے، اسلام آباد و لاہور کے موٹر ویز اور تین اہم انٹرنیشنل ایئر پورٹس لاہور، ملتان اور راولپنڈی کو گروی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کراچی کا جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور ایم ٹو پہلے ہی گروی رکھا جا چکا ہے۔ حکومت کا ارادہ تھا کہ اسلام آباد کا فاطمہ جناح پارک گروی رکھا جائے گا مگر پھر حکومت نے ارادہ تبدیل کر دیا اس کے بجائے ایئر پورٹس اور موٹر ویز کو گروی رکھنے کا فیصلہ کیا جو کہ ایک انتہائی احمقانہ فیصلہ ہے۔ اگر حکومت اسٹریٹیجک اثاثوں کو گروی رکھ رہی ہوتی اور اس کو بدل کر نان اسٹریٹیجک اثاثوں کو گروی رکھتی تو پھر بھی بات قابل قبول ہوتی۔ ہائی ویز اور، موٹر ویز اور ایئرپورٹس کی ایک اسٹریٹیجک ویلیو ہے۔ انہیں عسکری مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ فائٹر جہاز، موٹر ویز اور ایئر پورٹس پر لینڈ بھی کر سکتے ہیں اور موٹر ویز سے ٹیک آف کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے احمقانہ اقدام کے نتیجے میں ملک اور عسکری اثاثے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ حکومت کا اتنا غیرذمہ دارانہ رویہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ اتنے قیمتی اہمیت کے حامل اثاثوں کو کیوں گروی رکھا جا رہا ہے۔