کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے گزشتہ روز آئی جی سندھ کے دفتر کے باہر قمبر میں پی ٹی آئی کے رہنماء سخاوت راجپوت، ناظم جوکھیو، فہمیدہ سیال کے قتل کے معاملے پر احتجاج کیا، احتجاج میں آئی جی سندھ کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی قاتلوں کی جلد گرفتاری کا مطالبہ احتجاج میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ، پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بلال غفار اراکین صوبائی اسمبلی سعید آفریدی، جمال صدیقی، ارسلان تاج، شہزاد قریشی، علی عزیز جی جی، ڈاکٹر سنجے گنگوانی، شبیر قریشی، رابستان خان، راجہ اظہر، ڈاکٹر عمران علی شاہ، ملک شہزاد اعوان، ریاض حیدر، عمرعماری، کریم بخش گبول، عدیل احمد، عباس جعفری، سدرہ عمران، سیماء ضیاء، ادیبہ حسن، رابعہ اظفر، اراکین قومی اسمبلی ایڈووکیٹ عطاء اللہ خان، کیپٹن رجمیل احمد، جے پرکاش لوہانا، فہیم خان، اسلم خان، سیف الرحمان مسعود، صائمہ ندیم، آفتاب جہانگیر اور دیگر بھی موجود تھے احتجاج سے خطاب میں سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہادر رہنماء سخاوت راجپوت کو قتل کیا گیا سخاوت راجپوت کا قصور یہ تھا کہ ان کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا اور وہ لاڑکانہ قمبر شہداد کوٹ میں سندھ حکومت کی کرپشن کے خلاف آواز بلند کرتے تھے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گندی سوچ کی وجہ سے صوبے میں لسانیت کو فروغ مل رہا ہے مراد علی شاہ ملک دشمن قوتوں کے ایجنٹ بنکر صوبے میں لسانیت پہیلا رہے ہیں تاحال سخاوت راجپوت کے قاتل گرفتار نہیں ہوئے دوسری جانب پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان کی سربراہی میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے آئی جی سندھ سے ملاقات کی پی ٹی آئی رہنماؤں نے آئی جی سندھ کے سامنے بھی سخاوت راجپوت کے قتل کے خلاف اور ایس ایس پی قمبر شہداد کوٹ سمیر نور چنا کی جانبداری کے خلاف احتجاج بھی کیا پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ ایس ایس پی قمبر شہداد کوٹ سمیر چنا قاتلوں کی سرپرستی کررہے ہیں فہمیدہ سیال اور سخاوت راجپوت کے قاتلوں کو ایس ایس پی سپورٹ کر رہے ہیں آئی جی سندھ نے تمام واقعات کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ایک ماہ کا ٹائم مانگ لیا جس کے بعد پی ٹی آئی اراکین نے اپنا احتجاج ختم کردیا سندھ پولیس کے سربراہ مشتاق مہر کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیرزمان نے کہا کہ ہم آج آئی جی سندھ کے دفتر آئے بلکہ یہ کہیں کہ ہم زرداری کے آئی جی آفس آئے اور ان سے ملاقات کی سندھ میں آئی جی سندھ مکمل طور پر ناکام اور فیل ہوچکے ہیں آئی جی مراد علی شاہ کے کاموں اور کاروبار کروا رہے ہیں سندھ کے لوگ مر رہے ہیں پی پی رہنماؤں کے لیے شرم کا مقام ہے جامعات میں طالبات کو قتل کرکے خودکشی کا رنگ دیا جاتا ہے انہوں نے مزید اپنی گفتگو میں کہا کہ صوبہ سندھ یونیورسٹی آف کرپشن بن چکا ہے جس کے چانسلر زرداری اور وائس چانسلر مراد علی شاہ ہیں آئی جی نے ایک ماہ کا وقت دیا ہے ایک ماہ میں رانا سخاوت ناظم جوکھیو اور فہمیدہ سیال کے کیس حل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے کیس حل نا ہوئے تو ہم دیگر اداروں سے انصاف مانگے گے اور احتجاج کرینگےصوبے میں روز چوری ڈکیتی ہو رہی ہے مگر آئی جی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا ناظم جوکھیو اور فہمیدہ سیال کو قتل کردیا گیا مگر حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑا اگر صوبے کے یہی حالات رہے تو ہمیں سڑکوں ہر آنا پڑے گا ہم نے چوروں اور قتل کو غارت کرنے کیلئے آواز بلند کی ہے ہم نے آئی جی کو بتایا کہ ایس ایچ اوز جھوٹی ایف آئی آر کاٹتے ہیں ایس پی اور ایس ایس پیز پی پی رہنماؤں کی زمینوں کی حفاظت کرتے ہیں، آئی جی سندھ اگر ایک ماہ میں اس معاملے کو سنجیدگی سے حل نہیں کریں تو سندھ کے عوام کے مسائل کو ہم عدالتوں میں لیکر جائیں گے۔