میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) میرپورخاص کھپرو ناکہ چوک پر بجلی کی بندش کے یقین کے بعد 11 ہزار والٹ ہائی ٹینشن بجلی کے کھنبے پر چھڑ کر کیبل کی تار لگانے والا سیال کالونی کا رہائشی نوجوان 18 سالہ حبیب اللہ عرف ابلو شر پول سے کرنٹ لگنے سے زمین پر گر شدید زخمی، انتہائی سیرس حالت میں سول ہسپتال منتقل کيا گیا جہاں پر وہ اپنی جان کی بازی ہار گیا، انٹرنیٹ کی کیبل لگانے کے لئے غریب غیر تربیت یافتہ نوجوانوں کو 11 ہزار والٹ ہائی ٹینشن لائن بجلی کے کھنبوں پر رات کو کون چڑوا رہا ہے؟ رات گئے کھپرو ناکہ چوک پر انٹرنیٹ کی کیبل لگانے والا نوجوان کرنٹ لگنے سے جانبحق ہوگیا، کیا ان نوجوانوں کو سیفٹی کٹ دی گئی ہے؟ کیا اس قسم کی اطلاع/ پرمیشن ضلعی انتظامیہ، حیسکو حکام سے لی گئی ہے؟ ایک ماں کی گود اجڑ گئی، گھر کی کفالت کرنے والا اپنے بچوں کا سایہ دنیا سے چلا گیا اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس واقعہ پر سخت ایکشن نہ لیا گیا تو 250 روپے دہاڑی پر کام کرنے والے دیگر نوجوان بھی موت کی وادی میں چلے جائیں گے۔ پاکستان میں ایک قانون ایک آئین ایک ذمہ دار انتظامیہ موجود ہے پھر یہ جنگل کا قانون کیوں چل رہا ہے؟ کون پوچھے گا ایسے لوگوں سے جس کی وجہ سے ایک نواجوان موت کی نیند سوگیا ؟؟؟۔