کراچی (رپورٹ: نوراسلام ) کراچی ضلع غربی بالخصوص اورنگی ٹاون کی گنجان آبادی کے مکینوں کو عرصہ دراز سے پانی سے محروم رکھنے کی محکمہ واٹر بورڈ کی روایات برقرار لاکھوں نفوس پر مشتمل آبادی پانی سے محروم مومن آباد فقیر کالونی گلشن بہار سمیت مختلف علاقوں کے مکین پانی کیلئے ترس گئے ضلع غربی کا شمار حب ڈیم کے قریبی علاقوں میں ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے مذکورہ علاقوں میں محکمہ واٹر بورڈ کی غفلت اور راشی افسران کی رشوت خوری کے سبب پانی ناپید ہوتا جارہا ہے اس حوالے سے خصوصی سروے میں اہلیان اورنگی نے بتایا کہ محکمہ واٹر بورڈ نے اورنگی ٹاون کے مکینوں کا جینا دوبھر کردیا ہے موسم سرما ہو یا گرمیوں کا موسم اورنگی کو پانی نہیں ملتا
![]()
جسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ واٹر بورڈ کا عملہ و اعلی افسران ملی بھگت سے اورنگی ٹاون کے مکینوں کا پانی یا تو منگھوپیر خیر آباد یار محمد گوٹھ زیبو گوٹھ کے زمینداروں کو دے دیتے ہیں یا پھر واٹر ہائیڈرنٹ قائم کرکے عوام کے حصے کا پانی عوام پر فروخت کرکے دولت بناتے ہیں مکینوں کا کہنا تھا کہ حب فلٹر پلانٹ منگھوپیر کی پہاڑی پر بنایا گیا ہے جس کے قریب خیر آباد یار محمد گوٹھ زیبو گوٹھ آباد ہیں جہاں زمیندار کھیتی باڑی کرتے ہیں جو ہزاروں ایکڑ اراضی پر کاشتکاری کیلئے پانی کی ضرورت پورا کرنے کیلئے واٹر بورڈ کو رشوت دیتے ہیں لہذا گھنٹوں کے حساب سے کاشتکاری کیلئے حب فلٹر پلانٹ سے پانی کھیتی باڑی کیلئے دیا جاتا ہے جبکہ باقی مانندہ کثر منگھوپیر ملک چانڈیو گوٹھ کے قریب کرش پلانٹ کے نام سے مشہور واٹر ہائیڈرنٹ محکمہ واٹر بورڈ نے قائم کرکے پوری کردی ہے جہاں سے 6 عدد کنکشن لیکر پانی ٹینکروں کے ذریعے مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے
![]()
مکینوں کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے اورنگی ٹاون کو لاوارث چھوڑ دیا ہے کوئی پرسان حال نہیں بلوچستان سے ٹینکرز کے ذریعے آنے والا پانی بھی واٹر بورڈ نے بند کرادیا ہے تاکہ کرش پلانٹ کے ہائیڈرنٹ سے پانی کی ذیادہ سے ذیادہ فروخت کی جاسکے جو عوام کا ہی پانی ہے انکا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان سے ٹینکر کا پانی کم قیمت میں مل جاتا تھا جو کپڑے برتن اور نہانے کے لیئے استعمال ہوتا تھا لیکن اب مہنگے داموں سرکاری ہائیڈرنٹ سے پانی خرید کر استعمال کرنے پر عوام مجبور ہیں نہ جانے کب حکومت محکمہ واٹر بورڈ کا قبلہ درست کرے گی
![]()
اس حوالے سے پولیس ذراہع سے معلومات حاصل کی گئی تو پولیس ذراہع نے بتایا کہ محکمہ واٹر بورڈ اعلی افسران کو بذریعہ لیٹر بلوچستان سے پانی کی غیر قانونی فراہمی کے متعلق آگاہ کرکے کاروائی کا مطالبہ کرتی ہے لیکن پولیس جب کسی ٹینکر مالک کو گرفتار کرتی ہے تو واٹر بورڈ اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرانے سے انکار کردیتی ہے پولیس نے گذشتہ چند ماہ میں درجنوں مقدمات درج کیئے لیکن کوئی ایک مقدمہ بھی واٹر بورڈ کی مدعیت میں درج نہ ہوسکا تمام مقدمات پولیس نے اپنی مدعیت میں درج کیئے
![]()
جبکہ واٹر ٹینکر یونین کے ذمہ دار نے بتایا کہ بلوچستان سے تقریبا 4 ہزار سے ذائد ٹینکرز کراچی کو پانی کی سپلائی کرتے تھے جن میں سے ذیادہ تر پانی ماربل فیکٹریوں مختلف کمپنیوں تعمیراتی کاموں اور گھروں کے استعمال کیلئے جاتا تھا لیکن واٹر بورڈ نہ تو خود عوام کو پانی فراہم کرسکتی ہے نہ عوام کو مناسب قیمت میں پانی خرید کر استعمال کرنے دیتی ہے بلوچستان ساکران سے پانی کی سپلائی سے عوام کو سہولت جبکہ ٹینکر مالکان کو روزگار میسر تھا اب جبکہ واٹر بورڈ نے منگھوپیر میں سرکاری ہائیڈرنٹ قائم کردیا ہے اب ہزاروں ٹینکر مالکان روزگار سے محروم ہیں کیونکہ سرکاری ہائیڈرنٹ سے ٹینکر کی بھرائی مہنگے داموں ہیں
![]()
لہذا انڈسٹری ایریا سمیت عوام خریدنے سے قاصر ہیں البتہ شہر کے پوش علاقوں میں پانس کی سپلائی جاری ہے جو واٹر بورڈ کے لاڈلے ٹرانسپورٹرز کی گاڑیوں کے ذریعے کی جارہی ہے اورنگی ٹاون کے مکینوں کے مطابق کرش پلانٹ منگھوپیر میں واٹر ہائیڈرنٹ قائم ہونے سے ضلع غربی میں پانی کی موسم سرما میں قلت کا سامنا ہے
![]()
اندیشہ ہے کہ فروری کے اختتام تک پانی کی شدید قلت کا سامنا عوان کو کرنا پڑے لہذا حکومت فوری طور پر منگھوپیر کرش پلانٹ واٹر ہائیڈرنٹ کا ٹینڈر منسوخ کرے ساتھ ہی منگھوپیر کے گوٹھوں میں فلٹر پلانٹ کے صاف پانی کو کھیتی باڑی میں استعمال سے روکیں تاکہ عوام کو پانی دستیاب ہوسکے-
![]()
Home / جرائم و حادثات / محکمہ واٹر بورڈ اورنگی ٹاؤن اور منگھوپیر کے مکینوں کو پانی سے محروم رکھنے کی روایت پر قائم