خانیوال (بیورو رپورٹ) کبیروالا میں بینک مینجر نے بیوہ خاتون کی ساری جمع پونجی دھوکے سے ہڑپ کرلی۔ تفصیلات کے مطابق خانیوال کی تحصیل کبیروالا کے علاقے سکنہ کوہی والا کی رہاشی خاتون خالدہ پروین نے شوہر کی معذوری کے بعد 12 ایکڑ اراضی فروخت کرکے اراضی کی رقم تقریبن 1 کروڑ روپے کوہی والا میں واقع حبیب بینک میں یہ رقم اپنے اکاؤنٹ نمبر 02697100040901 میں جمع کروائی تھی خاتون نے شوہر کی معذوری کے بعد یہ رقم بنک میں جمع کروائی تھی کہ وہ ماہانہ منافع حاصل کرکے اپنے گھر کا خرچہ، شوہر کا علاج اور 3 بیٹیوں کی شادی کرے گی۔ خاتون نے جب یہ اپنا بینک اکاؤنٹ کھلوایا تھا تو اس وقت خاتون کو دستخط کرنا نہیں آتے تھے بینک مینجر ظفر اقبال نے خاتون کو دستخط سکھاۓ۔ خاتون جب بھی ماہانہ منافع لینے مذکورہ بینک میں جاتی تھی تو بینک مینجر ظفر اقبال خاتون کے سامنے چیک پر دستخط کرواتا تھا اور چک بک کے نیچے نیلے رنگ کا کاغذ رکھ کر چیک پر دستخط کرواتا تھا اور پھر چیک بک کو نیچے کرکے چیک بک کے چیک پھاڑ لیتا تھا کوئی بھی چیک خاتون کے سامنے نہیں پھاڑتا تھا مذکورہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کو نہیں معلوم کہ بنک مینجر چھپا کر کتنے چیک پھاڑتا تھا چیک پر دستخط ہونے کے بعد بنک مینجر چیک اور چیک بک خاتون کے سپرد کردیا کرتا تھا۔ خاتون نے بتایا کہ وہ جب بھی ماہانہ منافع لینے بینک جاتی تھی تو جب کبھی بینک مینجر بینک میں موجود نہیں ہوتا تھا تو بینک کا عملہ مجھ سے معذرت کرتا اور کہتا کہ بینک مینجر کی ہدایات ہیں کہ جب وہ خود موجود ہونگے تو آپ کو رقم کی ادائیگی کی جائے گی کچھ وقت گزرنے کے بعد بینک کے عملے نے مجھ کو بتایا کہ آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے ہی نہیں ہیں تو پھر آپ کو بنک کیسے کوئی ادائیگی کر سکتا ہے۔ یہ سننے کے بعد میں بنک میں بیہوش ہوگئی اور ہوش آنے پر بینک مینجر ظفر اقبال نے کہا کہ ابھی آپ گھر جائیں میں اس سلسلے میں کچھ کرتا ہوں اس وقت سے لیکر ابھی تک میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں اور بینک مینجر کا تبادلہ بھی حبیب بنک کی دوسری برانچ میں ہوگیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس نے اس فراڈ اور دھوکے بازی کی تحریری شکایات ایف آئی اے ملتان سرکل میں درج کروائی تھی جس کی انکوائری صرف ایک بار ہی کی گئی اس کے بعد انکوائری بند کردی گئی تو میں نے اس سلسلے میں ایک تحریری درخواست ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کو دی ہے کہ ایف آئی اے ملتان سرکل میں اس سلسلے کی انکوائری نمبر سی بی سی 61/2013 کو ری اوپن کیا جائے اور اس انکوائری کسی دوسرے تفتیشی افسر کو دی جائے۔ متاثرہ اور انصاف کی متلاشی خاتون خالدہ پروین نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم پاکستان عمران خان، چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار، گورنر پنجاب، وزیر اعلی پنجاب اور حبیب بینک کی انتظامیہ سے گزارش کی ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیکر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں بیمار شوہر اور 3 جوان بچیوں کو دربدر ہونے سے بچایا جائے۔
![]()