کراچی (رپورٹ، ذیشان حسین) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ وفاقی وزراء محسن نقوی، احسن اقبال، خواجہ آصف یا کوئی اور اپنی رائے رکھنے میں آزاد ہیں تاہم سندھ کی تقسیم یا نئے صوبے کے قیام کا اصل فورم سندھ اسمبلی ہ جس نے واضح اکثریت سے سندھ میں مزید صوبے کے قیام کی قرارداد مسترد کردی ہے۔ سندھ اسمبلی میں قرارداد کے موقع پر ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے ارکان کی غیر حاضری نے ان کا اصل مؤقف عوام کے سامنے واضح کردیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما باہر بیٹھ کر سندھ کی تقسیم کی بات کرتے ہیں جبکہ ان کے ارکان اسمبلی میں اس سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی حامی ہے تو کھل کر سامنے آئے اور اگر مخالف ہے تو واضح اعلان کرے۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھو دیش اس وقت کوئی موضوع نہیں، لیکن ایم کیو ایم ایک ایسی تنظیم کو غیر ضروری اہمیت دے رہی ہے جس کی سندھ میں کوئی سیاسی حیثیت نہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کے خلاف رکاوٹ ہے اور علیحدگی پسند عناصر کے سامنے واضح مؤقف رکھتی ہے۔
سعید غنی نے سندھ اسمبلی کے میڈیا کارنر پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا اختیار محسن نقوی، خواجہ آصف یا احسن اقبال کے پاس نہیں بلکہ آئین کے مطابق عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے، جبکہ سندھ اسمبلی اپنا فیصلہ دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ملک میں نئے صوبے بنانے پر اعتراض نہیں تاہم سندھ میں نئے صوبے بنانے کی مخالفت ہے، پنجاب اسمبلی بھی نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قرارداد منظور کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے زمینی حقائق سے ناواقف افراد کو صوبے کے حساس حالات پر تبصرے سے گریز کرنا چاہیے ماضی میں لسانیت کے نام پر خون خرابہ ہوا، تاہم آج صورتحال بہتر ہے، اس لیے سیاسی مفادات کے لیے سندھ کو دوبارہ نفرت کی آگ میں نہ دھکیلا جائے انتظامی یونٹس سے متعلق ایم کیو ایم کے مطالبے پر سعید غنی نے کہا کہ انتظامی یونٹس میں الگ وزیر اعلیٰ، وزراء یا کابینہ نہیں ہوتی، بلکہ اضلاع، ڈویژنز، تعلقے اور یونین کونسلیں انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہیں جن میں ضرورت کے مطابق اضافہ کیا جاسکتا ہے۔