تازہ ترین
Home / اہم خبریں / پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس: مالی دباؤ کے باوجود ترقیاتی منصوبے جاری رہیں گے، 2056 اسکیمیں مکمل کریں گے: مراد علی شاہ

پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس: مالی دباؤ کے باوجود ترقیاتی منصوبے جاری رہیں گے، 2056 اسکیمیں مکمل کریں گے: مراد علی شاہ

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے آئین میں موجود اختیارات کے تحت قومی دفاع کے لیے مالی معاونت فراہم کی ہے، اور یہ پہلا موقع ہے کہ آئین کی اس شق پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آئینی شق کی بنیاد رکھنے پر شہید ذوالفقار علی بھٹو خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔

پوسٹ بجٹ 2026-27 کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15.264 کھرب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 13.35 کھرب روپے تک کی وصولیوں میں صوبوں کا حصہ آئینی طور پر محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہدف سے زائد حاصل ہونے والی آمدنی میں سے صوبے قومی دفاع سمیت اہم قومی ضروریات کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کو وفاقی محاصل کی مد میں مئی تک 441 ارب روپے جبکہ صوبائی آمدنی میں 52 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہا، جس کے باعث مجموعی بجٹ خسارہ تقریباً 300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس ایک ہزار ارب روپے کا ریکارڈ ترقیاتی پروگرام دیا گیا تھا، تاہم مالی دباؤ کے باوجود ترقیاتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور رواں سال 850 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسان دوست پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور صوبے میں گندم کی پیداوار 3.5 ملین ٹن سے بڑھ کر 4.9 ملین ٹن تک جا پہنچی ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق سندھ کو وفاق سے 2,263 ارب روپے موصول ہونا ہیں جبکہ صوبائی محصولات کا ہدف 456 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ مجموعی آمدنی کا تخمینہ 3.083 کھرب روپے اور بجٹ کا حجم 3,525 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تنخواہیں اور پنشن صوبائی اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ اس مقصد کے لیے 2023 اور 2025 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں شامل کر دیا گیا ہے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری تنظیموں کے لیے 686 ارب روپے کی گرانٹس رکھی گئی ہیں، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے لیے 109 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ محدود مالی وسائل کے باعث سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم گزشتہ سال کے 1,018 ارب روپے سے کم ہو کر 720 ارب روپے رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں اور وفاقی ترقیاتی اسکیموں میں صوبے کا حصہ ہر صورت ادا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران 2,056 جاری ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے، جبکہ کوئی نئی اسکیم شروع نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ترقیاتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی اسکیموں کے بجائے جاری منصوبوں کی تکمیل پر توجہ دی گئی اور عوام نے اس پالیسی پر اعتماد کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا عوام سے مضبوط اور براہِ راست رابطہ موجود ہے، اسی لیے لوگ زمینی حقائق سے آگاہ ہیں اور بے بنیاد پروپیگنڈے کو اہمیت نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اور آئندہ دو برسوں میں اس کی مثبت نتائج صوبے اور ملک دونوں کو حاصل ہوں گے۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ محلہ چڑھ کے نوجوان لالہ عثمان انصاری کا بلدیاتی انتخابات میں حصہّ لینے کا اعلان۔

علاقہ بھر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نوجوانوں میں جوش و خروش۔ کمالیہ (ایڈیٹر نیوز آف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے