Home/اہم خبریں/کراچی کو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف مل کر تباہ کر رہے ہیں، حکومت سندھ ٹرانسپورٹ کرایوں میں سبسڈی کیوں نہیں دے رہی؟ سردار ذوالفقار رہنما پی ڈی پی
کراچی کو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف مل کر تباہ کر رہے ہیں، حکومت سندھ ٹرانسپورٹ کرایوں میں سبسڈی کیوں نہیں دے رہی؟ سردار ذوالفقار رہنما پی ڈی پی
کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رہنما سردار ذوالفقار نے کہا ہے کہ کراچی کو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف مل کر تباہ کر رہے ہیں۔ راولپنڈی صدر سے اسلام آباد سیکریٹیرٹ تک میٹرو بس کرایہ تیس روپے ہے۔ لاہور میں بھی عوام کو بہترین ٹرانسپورٹ کی سہولیات دستیاب ہیں۔ اہل کراچی سے ہر معاملے میں لوٹ مار اور کھال اتارنے کا سلسلہ کیوں ہے؟ گرین بس کے نام پر عوام کو بیوقوف بنایا گیا ہے۔ ایک اسٹاپ کا کرایہ بھی پچپن روپے اور سو روپے کا کارڈ گرین بس سروس کو غریب عوام کی پہنچ سے دور کرنے کے ہتھکنڈے ہیں۔ 100 روپے کارڈ بنانے کے اور 100روپے کا بیلنس عوام پر بوجھ ہے۔ ٹرانسپورٹ کی ماری کراچی کی عوام کو میٹرو، سرکلر ریلوے اور گرین بس کے نام پر سنہرے خواب دکھائے گئے اور اب اتنا زیادہ کرایہ وصول کیا جانا سنگین مذاق ہے۔ پیپلز پارٹی کا بس چلے تو کراچی میں گدھا گاڑیاں چلوا دے۔ یہ واحد قوم ہے حو جس تھالی میں کھاتی ہے اسی میں چھید کرتی ہے۔ باقی شہروں میں حکومت ٹرانسپورٹ کرایہ میں سبسڈی دے رہی ہے۔ حکومت سندھ ایسا کیوں نہیں کر رہی ہے؟ سعید غنی اور مرتضی وہاب بھاشن دینے کی بجائے عملی طور پر کچھ کرکے دکھائیں۔ پیپلز پارٹی کرپٹ لوگوں پر مشتمل منظم گینگ ہے۔ لیاری گینگ کی طرح ان پر بھی کاری ضرب لگانے کی ضرورت ہے۔
اسٹیک ہولڈرز کتنی تباہی تک انتظار کریں گے؟ زرداری اینڈ کمپنی ووٹ بینک کے معاملے میں بینک کرپٹ ہو چکی ہے۔ انہیں بچانے کے لئے دس لوگ بھی میدان میں نہیں آئیں گے بلکہ سندھ میں خوشی کے شادیانے بجائے جائیں گے اور لڈی ڈالی جائے گی۔ پاسبان اقتدار میں آ کر دو سال میں کراچی کو بہترین ٹرانسپورٹ کا نظام دے گی۔ پاسبان پبلک سیکریٹریٹ میں عوامی وفد سے گفتگو میں، گرین بس کے ایک اسٹاپ کا کرایہ بھی پچپن روپے وصول کرنے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے سینیئر رہنما سردار ذوالفقار نے مزید کہا کہ کراچی کی ڈھائی کروڑ سے زائد آبادی کی سفری سہولیات کے لیے ٹرانسپورٹ کی موجودہ تعداد ناکافی ہے۔ سفری سہولیات کے نام پر بوسیدہ اور پھٹیچر منی بسیں اور خطرناک چنگ چی موجود ہیں۔ ایک ایسا شہر جو 70 فیصد ریونیو دے کر ملک کی معیشت کو مضبوط سہارا دیتا ہے کیا اس کے شہری میٹرو بس سروس یا اورنج ٹرین جیسی سفری سہولیات کے حقدار نہیں ہیں؟ اگر لاہور میں یہ منصوبے کامیاب ہوسکتے ہیں تو کراچی کے لیے کیوں نہیں؟ انہی باتوں کی وجہ سے ملک دشمن عناصر کو دو پاکستان کی باتیں کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اتنی کثیر آبادی کو سفری سہولیات بہم پہنچانے کے لیے سنجیدہ نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کا حق ان تک پہنچائے۔