Home/اہم خبریں/پاکستان میں امن، تہذیب و ثقافت کی فضا قائم کرنے کے لئے دور رس فیصلے کی ضرورت ہے، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کی پیش کردہ قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور
پاکستان میں امن، تہذیب و ثقافت کی فضا قائم کرنے کے لئے دور رس فیصلے کی ضرورت ہے، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کی پیش کردہ قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) دنیا ادب کے سیکڑوں ادیبوں، شاعروں، اسکالرز، اساتذہ اور محققین سمیت آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے ہزاروں شرکاء اہلِ قلم، ادب، فن و ثقافت نے اتفاقِ رائے سے منظور کی گئی، قرارداد میں مرکزی، صوبائی حکومتوں اور ریاست کے جملہ متعلقہ ادروں سے مطالبہ کیا کہ ملک میں امن کی فضاء بحال کرنے کے لیے اپنے آئینی فرائض پورے کریں، ثقافت اور ادب سے وابستہ لوگ اپنی صفوں میں اتحاد کے ذریعے تہذیبی بقاء کی جدوجہد میں کسی تساہل کا مظاہرہ نہ کریں پاکستان میں تہذیب و ثقافت کا بچانا اور تحقیقی سرگرمیوں کی بحالی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، قرارداد صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کانفرنس کے آخری روز اختتامی سیشن میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ہزاروں افراد کے سامنے پیش کی جسے اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا، قرارداد میں کہا گیا کہ کانفرنس کے شرکاء محسوس کرتے ہیں کہ جب تک اسلحے کا دور دورہ ہوگا مکالمے کی فضا قائم نہیں ہوسکتی، ہمیں یقین ہے کہ پاکستان میں امن اور تہذیب و ثقافت کی فضا قائم کرنے کے لئے دور رس فیصلے کرنے ہوں گے ادبی جرائد کی اشاعت اور ان کی ترسیل کے ضمن میں حکومت کو اس کے کردار کی یادہانی کرانا چاہتے ہیں تعلیم کو قومی ترجیحات میں اولین حیثیت دی جائے بچوں کے ادب کو ہر ادبی فورم پر اہمیت دی جانی چاہیے، معلومات کے متعلق ٹیکنالوجی کو ادبی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے، پاکستان کی سب زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے، 1۔ اس کانفرنس کا مشترکہ احساس ہے کہ اس وقت ہمارے ملک میں ادب اور ثقافت کو جس انتہا پسندی اور انارکی کی صورتحال کا سامنا ہے اس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ انتہاپسندی کے رویے مختلف صورتوں میں سامنے آرہے ہیں۔ بدقسمتی سے مذہب کیمقدس نام کو بھی اس انتہا پسندی کی بھٹی کا ایندھن بنایا جا چکا ہے۔ انتہا پسندی کے اسباب کو مختلف ادوار کی حکومتی پالیسیوں اور خود معاشرے کے اندر موجود بعض حلقوں کی وجہ سے فروغ حاصل ہوا ہے۔ اس انتہا پسندانہ فضا میں جہاں ایک طرف تخلیق کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ تخلیقی اور ثقافتی سرگرمیوں میں لوگوں کی شرکت کو بھی مشکل بنایا جا چکا ہے، اظہار کی آزادیاں محدود سے محدود تر ہوتی جا رہی ہیں۔ وہاں اس سب کے لیے متشدد کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں تہذیب و ثقافت کا بچایا جانا اور تخلیقی سرگرمیوں کی بحالی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہم مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے اور ریاست کے جملہ متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک میں امن کی فضا کو بحال کرنے کے لیے اپنے آئینی فرائض پورے کریں۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ثقافت اور ادب سے وابستہ لوگ اپنی صفوں میں اتحاد کے ذریعے تہذیبی بقا کی جدوجہد میں کسی تساہل کا مظاہرہ نہ کریں۔ کانفرنس کے شرکا اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہیں اور اس احساس کو عملی شکل دینے کے عزم کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ 2۔ ہمیں مکمل یقین ہیکہ پاکستان میں امن اور تہذیب و ثقافت کی فضا قائم کرنے کے لیے دور رس فیصلے بھی کرنے ہوں گے۔ اس سلسلے میں ملک میں نصاب کو امن کی اقدار کو معاشرے کی تکثیریت کے اعتراف اور رواداری کے فروغ کا نقطہ نظر سے مرتب کیا جائے تاکہ آئندہ نسلیں مثبت طرزِ فکر و عمل کی حامل بن سکیں۔ 3۔ پچھلے کوئی دو برسوں میں پاکستان کو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ایک خطرناک وبا کا سامنا کرنا پڑا ہے اور جس انداز سے ہمارے ہاں اس وبا پر ردِ عمل ظاہر کیے جا رہے ہیں، خواہ وہ ذہنی ردِ عمل ہو یا عملی، ان سے ایک یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے ہاں امراض اور وباؤں کے بارے میں سائنسی طرزِ فکر کے بجائے توہمات کا زیادہ مظاہرہ ہوا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اردو اور پاکستان کی دوسری زبانوں میں سائنس سے متعلق تحریروں کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ نصاب کی کتابوں میں بھی سائنسی طرزِ فکر کی ترویج کی غیر معمولی ضرورت ہے۔ 4۔ کانفرنس کے شرکا محسوس کرتے ہیں کہ معاشرے میں جب تک اسلحے کا دور دورہ ہو گا، تب تک مکالمے کی فضا قائم نہیں ہو سکتی اور مکالمے کے بغیر معاشرے اپنے معاشی و سیاسی مسائل کو پر امن طور پر حل کرنے کے لائق نہیں ہوتے۔ چنانچہ بہت ضروری ہے کہ پاکستانی معاشرے کو اسلحے سے پاک کیا جائے اور یہ کام حکومتیں ہی کر سکتی ہیں۔ ہم ماضی کی کانفرنسوں کی طرح اس کانفرنس میں بھی اس نکتے پر گفتگو کرتے رہے ہیں اور ایک بار پھر اس پر اصرار کرتے ہیں کہ سب زبانوں کو پاکستان کی قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان سب زبانوں کے ادب اور ان کی تخلیقات کی ترویج کے لیے ٹھوس اقدام اٹھائے جائیں، جس کا خود آئینِ پاکستان نے بھی وعدہ کر رکھا ہے۔ 5۔ ہم ادبی جرائد کی اشاعت اور ان کی ترسیل کے ضمن میں حکومت کو اس کے کردار کی یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں۔ تمام جمہوری اور فلاحی مملکتوں میں ادب اور ثقافتی سرگرمیوں کی ترویج کے حوالے سے حکومتوں کا یہ کردار کسی رعایت یا احسان کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ 6۔ اس کانفرنس میں ملک کے موجودہ نظام تعلیم کی خامیوں اور کمزوریوں پر بھی سیر حاصل بحث ہوئی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ تعلیم کو قومی ترجیحات میں اولین حیثیت دی جائے۔ پرائمری اور سیکنڈری کی تعلیم کو خاص طور سے توجہ کا مرکز بنایا جائے۔ ہم سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں اس بات پر کہ ملک میں ڈھائی کروڑ کے قریب بچے تعلیمی اداروں میں جانے کی عمر میں ہونے کے باوجود ان اداروں سے دور ہیں۔ بچیوں کی تعلیمی صورتحال اور بھی خراب ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں آئینی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے مرکزی اور صوبائی حکومتیں لازمی اور مفت تعلیم کو جلد از جلد ممکن بنائیں اور اعلیٰ تعلیم و تحقیق کو معاشرے کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ان کی ترقی کے لیے بھی ٹھوس عملی اقدامات اٹھائیں۔ 7۔ ہم بچوں کے ادب کو ادب کے مرکزی دھارے کا حصہ تصور کرتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ آئندہ بچوں کے ادب کو ہر ادبی فورم پر دیگر اصنافِ ادب کی طرح اہمیت کا حامل تصور کیا جائے گا۔ 8۔ ہم نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ادب کی ترویج اور ترقی کے رجحانات کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں اور حکومتوں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ معلومات سے متعلق ٹیکنالوجی کے ادبی مقاصد کے لیے استعمال کے حوالے سے اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور اس ٹیکنالوجی کے آسان حصول میں معاون ثابت ہو۔ کیا یہ قرار داد آپ سب خواتین حضرات کو منظور ہے۔