تازہ ترین
Home / اہم خبریں / آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری چودہویں عالمی اردو کانفرنس میں معروف ادبی شخصیت ”عارفہ سیدّہ زہرا“ کے ساتھ نشست کا اہتمام

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری چودہویں عالمی اردو کانفرنس میں معروف ادبی شخصیت ”عارفہ سیدّہ زہرا“ کے ساتھ نشست کا اہتمام

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل کراچی میں چودھویں عالمی اردو کانفرنس میں عارفہ سیدہ زہرا سے گفتگو کے حوالے سے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی نظامت بی گل نے کی، عارفہ سیدہ زہرا نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی بنیادی خواہش ایک دوسرے سے کلام کرنے کی ہوتی ہے میرا فکری اور تہذیبی ورثہ سب سے زیادہ جس زبان میں موجود ہے وہ اردو ہے اس لیے میرا دل یہی چاہتا ہے کہ میں اسی زبان میں گفتگو کروں ویسے میں سات مختلف زبانیں جانتی ہوں اور انہیں روانی کے ساتھ بول بھی سکتی ہوں لیکن دیگر زبانوں میں میرا ورثہ اور تہذیبی لہو موجود نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی لہجہ یا کوئی بھی تلفظ ہو اس زبان میں بات تو کرنا شروع کریں، لہجے اس لیے بھی نرم نہیں ہو پا رہے کہ جن حالات سے لوگ گزر رہے ہیں وہاں نرمی کا فقدان ہو گیا ہے، انہوں نے کہا کہ تاریخ میں یہ ہمت موجود ہے کہ وہ ہمیں آئینہ دکھاتی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم میں بھی یہ آئینہ دیکھنے کی ہمت ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں مارشل لاء دور میں مطالعہ پاکستان لکھا گیا تو اس میں ہر تین چار سال بعد تحریک کے کارکن بدل جایا کرتے تھے، شکر ہے قائد کو نہیں بدلا گیا، اس طرح کے عمل سے نہ صرف تاریخ مسخ ہوتی ہے بلکہ ہم بھی جھوٹے قرار پاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ تعلیم ایک راستہ ہے مگر ہم تعلیم کو منزل سمجھ بیٹھے ہیں حالانکہ منزل علم ہے، تعلیم تو صرف راستہ ہے اور اس راستے کو روشن کرنے کے لیے تربیت ہوتی ہے جو آپ کو ٹھوکروں سے بچاتی ہے، انہوں نے کہا کہ تربیت کا کوئی پروجیکٹ نہیں ہوتا وہ ہمیں ہمارے گھر سے ملنی چاہیے اور ہمارے خون میں شامل ہونی چاہیے تربیت وہ ہے جو ہمیں یہ سکھائے کہ محبت کا بھی سلیقہ ہوتا ہے مگر اس سے بہتر طریقہ نفرت کرنے کا ہوتا ہے کیونکہ ہم محبت کرتے ہیں فائدے کے لیے اور نفرتیں کی جاتی ہیں دشمنی کرنے کے لیے، انہوں نے کہا کہ تربیت کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، آج اگر آئی ایم ایف والے ایک دن کے لیے پاکستان آجائیں اور یہاں سڑکوں پر دوڑتی ٹریفک کو دیکھ لیں تو جو کچھ انہوں نے ہمیں دینے کا وعدہ کیا ہے وہ بھی نہ دیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے سے مکالمہ کرنے کا رجحان ختم ہو گیا ہے ہم یہ سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ کتنی باتیں اور جھگڑے تو آپس کی باہمی گفتگو اور ایک دوسرے سے مکالمہ کرنے کے بعد ختم ہو جاتے ہیں معاملات کی درستگی اس ہی دن سے شروع ہو جاتی ہے جب آپ اپنی غلطی کو تسلیم کر لیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میرا تعلق ایک درمیانی طبقے سے ہے جس پر میں خوش ہی نہیں بلکہ بہت نازاں بھی ہوں، جو والدین مجھے ملے ہیں اس کا میں شکر ادا نہیں کر سکتی، انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں عام چلن یہ ہوگیا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو جمع کر کے دوسرے کے دامن میں ڈال دیتے ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک یہی ایک طریقہ ہوتا ہے خود کو بچانے کا جب کہ ہمیں اپنی غلطی کو پہلے درست کرنے کی ضرورت ہے آگے کے معاملات خود بخود درست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں کہ جس سے آپ اپنی غلطی کی معافی مانگ لیں اور وہ آپ کو معاف نہ کرے، انہوں نے کہا کہ ہم میں سے بعض لوگ جو ”زبان“ بولتے ہیں اور جو ”برتاؤ“ دوسروں کے ساتھ روا رکھتے ہیں وہ اس لیے ہے کہ جو لوگ ہمیں ”چُوری“ کھلاتے ہیں ہم ان ہی کی زبان بول رہے ہیں اگر ذرا بھی غیرت ہو تو ”چُوری“ کھلانے والوں کو ایک بار نہ کہہ دیں، آج اگر ظلم کے خلاف ایک نسل کھڑی ہوگی تو آئندہ دوسری نسل بھی کھڑی ہو جائے گی، انہوں نے کہا کہ جسے نقصان اٹھانا نہیں آتا اسے یہ بھی نہیں پتہ کہ فائدہ کیا ہوتا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے