کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل کراچی میں چودھویں عالمی اردو کانفرنس میں معروف ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید کے ناول ”دشتِ امکاں“ کی تقریبِ اجراء کا انعقاد کیا گیا جس کی نظامت عرفان جاوید نے کی۔ اصغر ندیم سید نے اپنے ناول دشتِ امکاں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک ادیب کو مصور اور فلم میکر کے ساتھ ضرور بیٹھنا چاہیے کیوں کہ فلم، آرٹ کو کچھ نہ کچھ دے رہی ہے، آرٹ تھیٹر کو دے رہا ہے اور تھیٹر اسے آگے پہنچا رہا ہے ہمارے یہاں ادیب کے بارے میں تصور کچھ اور ہے ہم فلم کومحض پاکستانی یا انڈین سمجھتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے فلم اس سے بالا تر میڈیا ہے، بڑے ناول نگاروں کی تمام تحریریں ایک توسیع میں ہوتی ہیں قرۃ العین کا سفر بھی کسی ایک جگہ نہیں تھا بلکہ جو رہ جاتا وہ اسے آگے پیش کر دیتیں بس کیفیت بدل جاتی تھی، انہوں نے کہا کہ مرد اور عورت کا تعلق بہت نازک ہے اس ناول میں عورت کی زبان سے ہی مکالمے کہلوائے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ مرد اگر عورت سے سچ بول دے یا عورت مرد سے سچ بول دے تو شادی برقرار نہیں رہے گی اور اگر رہے گی تو پہلے والی بات نہیں رہے گی انہوں نے کہا کہ قصہ گو صرف قصے تک ہی محدود نہیں رہتا کیوں کہ اگر وہ عام سی بات بھی کرتا ہے تو وہ قصہ بن جاتی ہے اس سے کوئی بھی بات پوچھ لیں اس کے اندر کا قصہ گو جب اْسے سنائے گا تو وہ قصہ ہی لگے گا، انہوں نے کہا کہ ہم ناول پر تاریخ اور فلسفے کا بوجھ نہیں ڈال سکتے البتہ یہ ممکن ہے کہ قصہ تاریخ میں ڈھلا ہوا ہو اور فلسفہ اس میں نظر نہ آئے مگر موجود ضرور ہو تو کہانی اس کا بوجھ سہ لیتی ہے، انہوں نے کہا کہ جو کہانیاں لکھتے ہیں وہ اپنے تخیل سے لکھتے ہیں، لکھنے والا جو محسوس کرتا ہے وہی بتاتا ہے ناول تکنیک کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا انہوں نے کہا کہ جو زندگی ہم خواب میں گزار رہے ہیں وہ بھی تو زندگی کا ہی حصہ ہے ہم سوئے ہوئے ہوتے ہیں مگر ہمارا دماغ چل رہا ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں سیکھنے کا عمل جاری رکھنا چاہیے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ تجربات کو اپنے اندر ہی گھٹنے اور مرنے دیں بلکہ ان کو ہمیں کوئی زبان دینی چاہیے اور یہ ناول بھی اسے ایک زبان دینے کی کوشش ہے، قبل ازیں عرفان جاوید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دشتِ امکاں ایک رجحان ساز ناول ہے اس ناول میں بیان کیے گئے واقعات سے اصغر ندیم سید خود بھی واقف ہیں، اس ناول کی وسعت اپنے اندر کئی ناولوں کا عکس رکھتی ہے اور ایک سچ کے بطن سے دوسرا سچ جنم لیتا ہے انہوں نے کہا کہ اصغر ندیم سید کے نثری فن پارے ایک دوسرے کی توسیع ہیں انہیں بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو یہ ایک مکمل تصویر بن کر سامنے آتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اصغر ندیم سید اپنی فکر کو سماج تک پہنچانے کی خواہش رکھتے ہیں ان کے پاس کہانیاں سنانے کے لیے بہت ہیں اور یہ بہت ذرخیز ذہن رکھنے والے ہیں اب ان کے اندر کی زنبیل سے کیا کچھ نکل کر باہر آتا ہے ہم سب منتظر ہیں۔