کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ابن انشا کے نام سے موسوم سیشن میں مشہور و معروف صداکار ضیا محی الدین نے ابنِ انشا کی نظم و نثر کی پڑھنت کرتے ہوئے صاحب طرز ادیب، مزاح نگار، نقاد اور اعلی پائے کے شاعر ابنِ انشا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ شاعری، مزاح نگاری سمیت اردو کی دوسری جداگانہ تحریروں سے شہرت پانے والے ابن انشاء کو ضیا محی الدین نے خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ بیت کم لوگ جانتے ہونگے کہ ابن انشاء کا اصل نام شیر محمد خان تھا، میری انشا سے دوستی 1951 میں شروع ہوئی لیکن اس سے قبل میں ریڈیو پاکستان میں کام کیا کرتا تھا میرا کام ابن انشا کی خبروں کو انگریزی میں ترجمہ کرنا ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہم لوگ گرومندر سے کلفٹن کے پل تک پیدل آیا جایا کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیراڈی ادب کی ایک صنف ہے اور انشا جی اس صنف کے بادشاہ تھے۔ ضیا محی الدین نے مزید کہا کہ ابن انشا کی نظم ‘یاروں کوئی اوپائے کرو’ مجھے اب بھی اتنی ہی پسند ہے جتنی ستر سال قبل تھی۔ ابن انشا کی شاعری کے تین دیوان چھپ چکے ہیں۔ قیاس یہ کیا جاتا ہے کہ جو مزاح اور شگفتگی ان کی تحریروں میں پائی جاتی تھی وہ شاعری میں بھی ہوگی لیکن ان کی شاعری میں ہجر و ملال پایا جاتا ہے۔ انہوں نے ابن انشا کی مشہور نظم ‘اس آنگن کا چاند’ پڑھنے سے قبل کہا کہ چاند ابن انشا کا محبوب استعارہ تھا، چاند افضلیت ہے، چاند ایسی محبوبہ ہے جسے کبھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ضیا محی الدین نے نثر ‘بقلم خود’ اور ‘استاد محروم’ پیش کیا تو ہال تالیوں اور قہقہوں سے گونج اٹھا، حاضرین داد دیئے بنا نہ رہ سکے۔