تازہ ترین
Home / اہم خبریں / آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں چودھویں عالمی اُردو کانفرنس کے دوسرے روز ”اُردو ناول کی عصری صورت حال“ میں دانشوروں کا اظہار ِ خیال

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں چودھویں عالمی اُردو کانفرنس کے دوسرے روز ”اُردو ناول کی عصری صورت حال“ میں دانشوروں کا اظہار ِ خیال

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقدہ چودھویں عالمی اُردو کانفرنس کے دوسرے روز کے پہلے سیشن ”اُردو ناول کی عصری صورت حال“ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے برصغیر کے معروف ناول نگاروں نے کہا کہ ناول یہ نہیں ہے کہ آج واقعہ رونما ہو اور فوری ناول تحریر کرلیا جائے، اس تیز رفتاری سے لکھے جانے والے ناول میں تخلیق شامل نہیں ہوتی بلکہ خبر رہ جاتی ہے، بعض نئے لکھنے والوں کی تحریروں میں تاریخی حقائق بھی غلط ہیں، بعض واقعات پر اتنے زیادہ ناول لکھے گئے ہیں کہ اس میں موجود تخلیقی جوہر باقی ہی نہیں رہتا، ہم نے عورت کو استعمال کی شے سمجھ کر گھر میں قید کرلیا، ابتدائی دور میں خواتین اپنی تحریریں فرضی ناموں سے شائع کرتی تھیں، رشید جہاں کے بعد عصمت چغتائی اور قرة العین حیدر کی تحریروں میں رشید جہاں کا رنگ ہی نظر آتا ہے سیشن کی صدارت معروف ناول نگار خالد فتح محمد اور انور سن رائے نے کی جبکہ بھارت کے شہر ممبئی سے رحمن عباس نے ”نسائی شعور اور اردو ناول کے مطالعات“ اور کلکتہ سے صدیق عالم نے ”نئی انسانی صورت حال اور اُردو ناول“ پر آن لائن گفتگو کی، تقریب میں موجود نجیبہ عارف نے ”پون صدی میں ناول کی تفہیم اور اردو تنقید“، محمد حفیظ خان نے ”‘پچھتر سال میں سماجی تغیرات اور اُردو ناول“ جبکہ محمد عاصم بٹ نے ”معاصر ناول: نئی آوازیں، نئی اُمیدیں“ کے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا، تقریب کی نظامت کے فرائض سید کاشف رضا نے انجام دیے، اس موقع پر خالد فتح محمد کے ناول ”وقت کی باگ“ کی رونمائی بھی کی گئی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد فتح محمد نے کہا کہ بعض واقعات پر اتنے زیادہ ناول لکھے گئے ہیں کہ اس میں موجود تخلیقی جوہر باقی ہی نہیں رہتا، ناول یہ نہیں ہے کہ آج واقعہ ہوا اور اس پر فوری ہی کچھ لکھ بھی دیا جائے کیونکہ اس طرح تخلیق شامل نہیں ہوتی بلکہ وہ خبر بن کر رہ جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ فکشن بڑی چیز ہے، بعض نئے لکھنے والوں کے ناولوں میں تاریخی حقائق بھی غلط ہوتے ہیں جس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ان میں تحقیق کے ساتھ کام نہیں کیا گیا ہے، انور سن رائے نے اپنے خطاب میں کہا کہ لکھنے والا چاہے اپنا کوئی بھی معیار مقرر کر لے آخر کار فیصلہ اس بات پر ہی ہوتا ہے کہ وہ لکھنے والا پڑھنے والوں کے لیے کیسا ثابت ہوتا ہے اور قاری لکھنے والے کو کس طرح محسوس کرتا ہے، اگر قاری لکھنے والے کو قبول کرنے پر تیار نہیں تو کوئی بھی نقاد لکھنے والے کو مقبول نہیں بنا سکتا، انہوں نے کہا کہ ناول اوپر سے نیچے کی جانب جاتا ہے اور اس کا پھیلاﺅ بڑھتا چلا جاتا ہے، بہت کم ناول ایسے ہوتے ہیں جو نیچے سے اوپر کی جانب جاتے ہیں یعنی عوام کی پسنددیدگی کے بعد خواص کی پسنددیدگی کی جانب، انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ ناول تقسیم پر لکھے گئے ہیں مگر کیا اس بات کو محسوس کیا گیا کہ ہم اس کے بعد بھی کئی تقسیم کے مراحل سے گذر چکے ہیں، مغربی پاکستان کے واقعہ پر ناول موجود ہیں اور بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر میں انتہائی معذرت کے ساتھ یہ عرض کروں گا کہ بعض لکھنے والوں نے سچائی سے کام نہیں لیا اور حقائق کو چھپایا ہے، ممبئی سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے رحمن عباس نے کہا کہ برصغیر کی عورت کا المیہ یہ ہے کہ وہ مرد کے سامنے خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے ہم نے عورت کو استعمال کی شے سمجھ کر گھر میں قید کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ خواتین ناول نگاروں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اسی پس منظر میں تحریر کیا ہے، ابتدائی دور میں خواتین اپنی تحریر فرضی ناموں سے شائع کراتی تھیں وجہ یہی تھی کہ خاتون ہونے کے باوجود ان کا لکھنا ان کا جرم بنا دیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ رشید جہاں خواتین پر بہت کچھ لکھ کر گئیں اس کے بعد عصمت چغتائی اور قرة العین حیدر کی تحریروں میں بھی رشید جہاں کا ہی رنگ نظر آیا، اس کے بعد جمیلہ ہاشمی بھی اسی میدان میں کام کرتی نظرآئیں، ان کے ناولوں میں بھی عورت کے مسائل اور خوف کو بیان کیا گیا ہے، کلکتہ سے صدیق عالم نے آن لائن اپنے خطاب میں کہا کہ ہم ایک ایسے سمندر میں ہیں جو ہر طرف بہہ رہا ہے، جس طرح آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران اگر بداحتیاطی کی جائے تو تاریخ مسخ رہنے کا اندیشہ ہوتا ہے اسی طرح قلم کار کی بد دیانتی بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری تمام قدرتی سرحدیں موم کی طرح پگھلتی جارہی ہیں اس لیے یا تو اب بہت ہی اچھا ناول لکھا جائے گا یا پھر بہت ہی برا، بیچ کے ناول کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے، نجیبہ عارف نے کہا کہ اگر ناول محض زندگی کا چربہ ہے تو قاری کو متوجہ نہیں کرسکتا، ناول میں پیش کردہ حقیقت محض حقیقت کا ایک زاویہ ہی ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ ”ناول تنقید حیات ہے“ والا جملہ اب اذہان میں اس طرح بس چکا ہے کہ ہزاروں میں بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ ناول نگار کیا کہنا چاہتا ہے اور اس کا فلسفہ حیات کیا ہے، محمد حفیظ خان نے کہا کہ فکشن میں دور تک دیکھنے کا ہنر چاہیے، ناول ایک مکمل زندگی کا بیان ہے جس میں زندگی کا مکمل فہم ہونا ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں زندگی نہیں بلکہ واقعات ہوتے ہیں اس لیے ناول بہت پیچھے رہ گیا ہے اور واقعات آگے نکل گئے ہیں مگر اس کے باوجود بھی اچھے ناول لکھے جارہے ہیں، محمد عاصم بٹ نے کہا کہ ناول آج کی سب سے مقبول صنف ہے کیونکہ یہ دنیا بھر میں ادب کے ایجنڈے کی خبر دیتا ہے انہوں نے کہا کہ ناول اپنے بیانیہ میں ایسی طاقتِ اظہار رکھتا ہے جو اسے دیگر اصناف میں ممتاز کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ ناول کے شعبے میں اَن گنت تجربات ہوچکے ہیں اور ہمارا نیا ناول نگار کئی مسائل کا سامنا بھی کر رہا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

محرم الحرام کے دوران امن، بین المسالک ہم آہنگی اور شہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، محمد احسن ناغڑ

حیدرآباد، (اسٹاف رپورٹر) استحکام پاکستان آرگنائزیشن (آئی ایس پی او) کے چیئرمین محمد احسن ناغڑ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے