عبداللہ بڑے جوشیلے اور پر اُمید انداز میں دفتر میں داخل ہوا۔ اسے یقین تھا کہ اس کا کام عام سا کام ہے اور کسی بھی پیچیدگی کے بغیر جلد ہی ہوجائے گا۔ اسے دفتر کے کلرک نے دوسرے دفتر میں بھیجا کہ آپکا کیس فلاں دفتر میں فائل کردیا ہے آپ فیضی سے ملیں آپکا کام ہوجائے گا۔ وہ جلدی سے دوسرے دفتر پہنچا اور جس بندے کا نام فیضی بتایا گیا تھا اسکا پوچھا تو معلوم ہوا کھانا کھانے گیا ہوا ہے۔ گھنٹے بعد دوبارہ معلوم کیا تو اس سے ملوایا گیا اور اس نے ایک اور بندے کے پاس بھیجا کہ واصف سے پتہ کرو۔ واصف کے پاس بھیجا گیا وہ تو دفتر میں ہی تھا اور جس سے پہلے دفتر والے نے ملنے کا کہا وہ تو اس دفتر کا کلاس فور تھا۔ عبداللہ کا سر گھومنے لگا سوچنے لگا کام کسی اور نے کرنا ہے اور بتایا کلاس فور کا کہ اس سے ملو۔ خیر اس کے پاس گیا تفصیلات بتائیں معلوم ہوا کہ کیس سے متعلق ایک تفصیل غلط ہے جو ریکارڈ سے میچ نہیں کررہی۔ یہ سن کر عبداللہ کے چہرے کا رنگ اڑنے لگا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے بندہ سرکاری ملازم ہو اور تیس پینتیس سال سروس ہو اسکا ریکارڈ غلط ہو حالانکہ اس سرکاری ملازم نے کچھ عرصہ قبل اسی دفتر سے ایک کام کروایا جو ہوگیا تھا اور اس سے قبل بھی کئی بار ایسا ہوا تب تک تو سب ٹھیک تھا۔ عبداللہ کو تسلی دی گئی کہ ہم اسکو چیک کریں گے۔ دو ہفتے مزید گزر گئے وہ دوبارہ گیا۔ تفصیلات جاننی چاہیں تو بتایا گیا ریکارڈ نہیں مل رہا دن وہاں گزارا دوسرے صبح پھر دفتر پہنچا اور جاکر بیٹھ گیا۔ واصف نے ایک اور بندے کو ساتھ لایا تینوں نے ریکارڈ چیک کیا اور چار سے پانچ منٹ میں ریکارڈ مل گیا۔ صاحب لوگوں نے اس سے قبل ریکارڈ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ ریکارڈ مل گیا اب کہا گیا کہ صاحب بل پر سائن نہیں کرے گا وہ پیسے لے گا۔اسکے پاس پیسے تھے نہیں دماغ گھوم رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے؟ جب سمجھا کہ ایسے کچھ بھی نہیں ہوگا تو حامی بھری اور واپس آگیا۔ کچھ دن بعد کلرک کو پیسے بھیجے اس نے اسی کلاس فور کے اکاؤنٹ میں منگوائے جس کے پاس پہلے گیا تھا۔ پیسے بھیجنے کے کچھ دن بعد دوبارہ دفترگیا تو کام ابھی مکمل نہیں ہوا تھا اور مبجوراً مزید کچھ لین دین کرنا پڑا۔ دو تین بعد فون آیا کام ہوگیا متعلقہ دفتر کو بل بھیج دیا ہے اور پھر ایک اور فون آیا کہ آجائیں کام ہوگیا۔ عبداللہ سوچ رہا تھا کہ اتنے سے کام کے لیے کئی ہفتے لگ گئے۔ دفاتر کے چکر الگ سے کاٹنے پڑے۔ اپنا حق لینے کے لیے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں۔ جو پیسے دے گا بڑے سے بڑا کام بھی جلد ہوجائے گا اور جو بیچارہ ایویں ہی ہوگا چکر کاٹ کاٹ کر جوتے خراب ہوجائیں گے کام نہیں ہوگا۔ وطن عزیز میں سسٹم ہی ایسا بنایا ہوا ہے کہ کام کے لیے کہاں جاؤ نوٹ جیب میں لیکر جانا ہے۔ ورنہ وقت برباد کرنا ہے۔ کالم میں تمام نام فرضی ہیں۔ مزید کرپشن کہانیاں آئندہ آنے والے کالموں میں ملاحظہ فرمائیں۔