Home / اہم خبریں / لواری سرنگ میں سیمنٹ اور سریا لانے والے بڑے ٹرکوں، ٹریلوں پر این ایچ اے حکام نے پابندی لگا دی۔ عوام سراپا احتجاج

لواری سرنگ میں سیمنٹ اور سریا لانے والے بڑے ٹرکوں، ٹریلوں پر این ایچ اے حکام نے پابندی لگا دی۔ عوام سراپا احتجاج

چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) لواری سرنگ کی تعمیر سے پہلے چترال کے لوگ انتہائی مشکلات سے دوچار تھے شدید برف باری کے باعث جب چترال کا واحد زمینی راستہ لواری ٹاپ ہر قسم ٹریفک کیلئے بند ہوتا تھا تو یہاں کے لوگ روزمرہ استعمال کی چیزیں دگنی قیمت خریدنے پر مجبور تھے جو پہلے سے سٹاک کیا جاتا تھا جب لواری ٹنل بن گئی تو چترال کے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اب ن کی مشکلات میں کمی آئے گی۔ مگر حال ہی میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور ضلع اپر دیر کی انتظامیہ نے لواری ٹنل کے اندر سیمنٹ اور سریا لانے والے بڑے ٹرکوں اور ٹریلوں پر پابندی لگائی ہے جس سے علاقے کے لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، چترال کے معروف سماجی اور مذہبی رہنماء قاری جمال عبد الناصر کے سرپرستی میں اتالیق اڈہ میں ایک پر امن احتجاج بھی کیا۔ مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے قاری جمال عبد الناصر نے بتایا کہ یہ چترالی عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے انہوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ اس بابت جوڈیشل انکوائری کی جائے کہ 28 ارب روپے سے زائد لاگت سے بننے والی لواری ٹنل کوریا کے ایک بین الاقوامی تعمیراتی کمپنی نے بنایا ہے اگر یہ ناقص بنایا گیا ہے تو اس کمپنی کے ذمہ دار اور این ایچ اے کے ان افسران کو کڑی سزا دینی چاہئے جو اس کام کی نگرانی کر رہے تھے اور ان سے خرچ شدہ رقم واپس لی جائے۔ صلاح الدین طوفان نے اس بات پر نہایت تشویش کا اظہار کیا کہ اگر یہ ٹرک اور ٹریلر سندھ اور پنجاب سے آتے ہوئے کوہاٹ ٹنل سے گزر سکتے ہیں تو لواری ٹنل سے کیوں نہیں؟ انہوں نے اعلی حکام سے اس بابت تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا کہ اس سرنگ کی تعمیر میں اگر ناقص کام ہوا ہے جو ٹرکوں کا وزن برداشت نہیں کرسکتا تو کمپنی کے ذمہ دار اور ان کی نگرانی کرنے والے این ایچ اے کے افسران کے حلاف قانونی کاروائی کرنا چاہئے۔ جغور کے مجاہد نے بتایا کہ چترالی ہونا جرم بن چکا ہے ہم نے پاکستان کے ساتھ پر امن طریقے سے رضاکارانہ طور پر الحاق کیا اور اس میں ضم ہوگئے۔ ستر سال ہم نے لواری ٹاپ کی مصیبتیں برداشت کیں اب جب سرنگ بن گئی تو کھبی ہمیں پولیس تنگ کرتی ہے کبھی پیرا ملٹری فورس والے ہمیں روکتے ہیں اور بلا وجہ لواری ٹنل میں عوام کو تنگ کیا جاتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ جب ان تعمیراتی سامان کو چھوٹی گاڑیوں میں لایا جاتا ہے تو اس پر کرایہ زیادہ لگتا ہے اور عوام کو یہ چیزیں مہنگے دام فروخت کی جاتی ہے۔ چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لواری ٹنل کے اندر سیمنٹ اور سریا لانے والے بڑے ٹرکوں کی آمد ورفت پر پابندی ہٹائی جائے ورنہ عوام اس پابندی کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے