تازہ ترین
Home / اہم خبریں / مشکوک حالات میں کاروباری مراکز میں آگ لگنا معنی خیز ہے، روزگار کو تحفظ فراہم کرنے اور واقعات کی روک تھام کے لئے مکمل تحقیقات کی جائیں۔ اقبال ہاشمی

مشکوک حالات میں کاروباری مراکز میں آگ لگنا معنی خیز ہے، روزگار کو تحفظ فراہم کرنے اور واقعات کی روک تھام کے لئے مکمل تحقیقات کی جائیں۔ اقبال ہاشمی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ مشکوک حالات میں کاروباری مراکز میں آگ لگنا معنی خیز ہے۔ واقعے کی مکمل تحقیقا ت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کے روزگار کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور ایسے واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔ آئے دن فیکٹریوں، گوداموں، تجارتی پلازوں اور شاپنگ سینٹر وغیرہ میں آگ لگنے کے حادثات میں لاکھوں، کروڑوں اور اربوں روپے کا نقصان ہو جاتا ہے۔ مہنگائی اور معاشی ابتری کے دور میں ایسے حادثات ایک تاجر کی کمر توڑنے کے مترادف ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں آگ، زلزلے، سونامی اور دیگر ناگہانی آفات سے بچنے کے لئے نت نئے آلات اور ریسکیو کے حوالے سے جدید طریقہ کار وضع کئے جاتے ہیں لیکن ہماری حکومتیں ناگہانی حادثات کے لئے کوئی ماسٹر پلان یا موثر حکمت عملی تیار نہیں کرتیں۔ تاجروں کے لاکھوں، کروڑوں اور اربوں روپے کے نقصانات کے علاوہ لوگوں کے زخمی اور ہلاک ہونے کے افسوسناک واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ چھوٹے تاجر بھی ہوتے ہیں، جنہوں نے سالہا سال کی اَن تھک محنت سے پیسے جوڑ جوڑ کر تجارتی مرکز میں دکان بنائی ہوتی ہے۔ حادثہ آگ کی صورت میں اس کا سب کچھ لُٹ جاتا ہے۔ حکومت متاثرہ تاجروں کی مدد کا اعلان کرے۔ تاجروں کو چھوٹے قرضہ جات بھی دئیے جائیں تاکہ وہ اپنا کاروبار بحال کر سکیں۔ پی ڈی پی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کراچی کے مصروف ترین کاروباری علاقے صدر میں کوآپریٹو مارکیٹ میں لگنے والی آگ اور کروڑوں روپے کے نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے مزید کہا کہ آگ لگنے کے کئی گھنٹوں تک فائر بریگیڈ عملہ کا نہ پہنچنا ذمہ داری سے غفلت ہے۔ اگر فائر بریگیڈ کا عملہ وقت پر پہنچ جاتا تو آگ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہونے والے شہر کراچی میں نہ صرف پانی و سیوریج، بجلی، پبلک ٹرانسپورٹ اور صحت صفائی سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے بلکہ محکمہ فائر بریگیڈ بھی انتہائی ابتر حالت میں ہے۔ وفاقی وصوبائی حکومتوں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کی عدم دلچسپی کے باعث سالوں سے تباہی کا شکارمحکمہ فائربریگیڈ اب مزید زوال کا شکار ہوگیا ہے۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب کہلاتا ہے مگر یہاں آگ لگنے کے واقعات سے نمٹنے کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں۔ اس شہر کا ماسٹر پلان ترتیب دینے والوں نے بے ہنگم تعمیرات کی اجازت تو دے دی لیکن ہنگامی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کا حل دینے میں ناکام رہے۔ ڈھائی کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں بین الاقوامی معیار کے مطابق فائر اسٹیشن موجود ہی نہیں ہیں۔ شہر قائد میں میں آتشزدگی کے کئی واقعات ایسے بھی ریکارڈ پر ہیں جہاں فائر بریگیڈ کے پاس جدید سہولیات نہ ہونے کے باعث قیمتی جانیں اور املاک نذر آتش ہو گئیں۔ ایک مکمل فائر اسٹیشن میں ڈیڑھ لاکھ گیلن پانی ہر وقت موجود ہونا چاہیئے لیکن شہر کے متعدد فائر اسٹیشنز کے پاس پانی جمع کرنے کی سہولتیں نہیں ہیں۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق کراچی فائر بریگیڈ کا نظام دس فیصد سے بھی کم پر چل رہا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے