تازہ ترین
Home / اہم خبریں / ضلع تورغر میں مسلسل بارش کے بعد شدید سیلاب آسمانی بجلی گرنے اور مٹی کا تودہ گرنے سے 3 مکانات مکمل طور پر تباہ۔ 12افراد جاں بحق، 2 زخمی

ضلع تورغر میں مسلسل بارش کے بعد شدید سیلاب آسمانی بجلی گرنے اور مٹی کا تودہ گرنے سے 3 مکانات مکمل طور پر تباہ۔ 12افراد جاں بحق، 2 زخمی

تورغر (رپورٹ: گل حماد فاروقی) ضلع تورغر کے علاقے جھٹکا میں آسمانی بجلی گرنے سے بارہ افراد جاں بحق، 11 افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ ایک لاش کی تلاش جاری، خیبر پحتونخوا کے ضلع تورغر میں نہایت دور آفتادہ اور پسماندہ علاقے جھٹکا میں مسلسل بارشوں کے بعد پہاڑی پر آسمانی بجلی گر گئی جس کے بعد علاقے میں شدید سیلاب آیا اور پہاڑی کے دامن میں واقع تین مکانات پر مٹی اور پہاڑی تودہ گرنے سے بارہ افراد جاں بحق ہوچکے۔ 

واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا مقامی لوگ پولیس لاشوں کی تلاش میں مصروف، ضلع تورغر گاؤں جھٹکا اور کنڑاں میں شدید بارش کی وجہ سے تین گھر سیلاب کے لپٹ میں آگئے تینوں گھر مکمل تباہ ہوئے مقامی لوگوں نے ضلعی انتظامیہ سے امدادی کاروائیاں تیز کرنے اور لاشیں تالاش کرنے کی اپیل کی ہے۔ ڈی پی اوسید مختار شاہ کے مطابق ٹوٹل 14 افراد ان مکانات میں رہائش پزیر تھے جن میں 11 کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں جبکہ شدید زخمی ایک خاتون اور بچی کو زندہ نکالا گیا، ایک لاش کی تلاش جاری ہے۔

 

زخمیوں کو قریبی دیہی مرکز صحت پہنچایا گیا اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے گھر کا سربراہ جنب خان اور ان کا بیٹا محنت مزدوری کی غرض سے کراچی میں مقیم ہیں۔ مقامی صحافی رب نواز جو اس حادثے میں عینی شاہدین سے بات چیت کر رہے تھے انہوں نے بتایا کہ ریسکیو کا عمل اب بھی جاری ہے۔ جبکہ ڈپٹی کمشنر فواد خان اور انکے پی اے کے مطابق ریسکیو کیلئے دیگر اضلاع سے مشینری اور سامان آرہا ہے جو راستے میں ہے۔ تورغر جھٹکا سیلابی ریلے میں بہہ جانے والوں کی لاشیوں کو عوام اپنی مدد آپ نکال رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تورغر سید مختار شاہ کے مطابق ضلع تورغر گاؤں جھٹکا اور کنڑاں میں شدید بارش کی وجہ سے تین گھر سیلاب کے لپٹ میں آگئے تھے جن میں گیارہ افراد موقع ہی پر جاں بحق ہوئے تھے جن میں سے ایک خاتون اور بچہ بھی شامل ہے جبکہ ایک لاش کی تلاش جاری ہے۔

 پولیس رپورٹ کے مطابق درمیانی شب کو دو گھروں پر مٹی کا تودہ گرنے سے گھروں میں موجود 16 افراد میں سے 12 افراد کے جابحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے دو افراد کی تالاش جاری ہے اور دو افراد شدید زخمی ہیں، پولیس کی رپورٹ کے مطابق دونوں بھائیوں کے گھر جو ایک دوسرے کے قریب تھے درمیانی رات کو مٹی کا تودہ آگرا ہے امدادی کاروائیوں میں اب تک شیراز، شیر نواز خان، مسماۃ گل، مسمات الف، اور دو بچوں آمینہ اور انور کے لاشیں مل گئیں ہیں، نوجوان گل نواز تین بچوں سمیت جن میں راز مینہ، رومینہ، عائشہ اور عمیرہ بی بی شامل ہیں اب تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، دوسرا گھر جو تین کمروں پر مشتمل تھا جس میں ایک خاتون مسماۃ ب اور چار سالہ بچہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ اس گھر کے دو افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن کو پولیس اور مقامی لوگوں نے مل کر ملبے تلے سے نکال کر اسپتال منتقل کیا ہے۔ علاقے کے لوگ رضاکارانہ طور پر ملبے تلے افراد کو نکال رہے ہیں جس کیلیے امدادی کاروائیاں تیز کردی گئی ہیں امدادی کاروائیوں میں مقامی لوگ اور پولیس حصہ لے رہی ہے جبکہ انتظامیہ کی طرف سے اب تک کوئی بھی جاۓ وقوع پر نہیں پہنچا ہے آسمانی بجلی گرنے سے جان بحق افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، جنازے میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی ایک ہی خاندان کے دس جنازے اٹھنے سے کہرام مچ گیا علاقے میں سوگ کا سماں۔

متاثرہ حاندان اور علاقے کے لوگ ڈپٹی کمشنر تورغر سے اپیل کرتے ہیں کہ امدادی کاروائیوں میں تیزی لائیں اور ان کے پیاروں کو ملبے تلے سے نکالنے میں ان کی مدد کریں۔  اس حادثے کے ضد میں آنے ولا دوسرا گھر جو تین کمروں پر مشتمل تھا جس میں ایک خاتون مسماۃ ب اور چار سالہ بچہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ اس گھر کے دو افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن کو پولیس اور مقامی لوگوں نے مل کر ملبے تلے سے نکال کر اسپتال منتقل کئے گئے ہیں۔ مقامی صحافی رب نواز نے تورغر سے فون پر تازہ ترین صورت حال سے ہمارے نمائندے کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کل چودہ افراد اس حادثے کی ضد میں آئے تھے جن میں بارہ افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ دو زخمی ہوئے تھے زحمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ افسوس ناک واقعہ گزشتہ رات مسلسل بارشوں کے بعد پیش آیا اور یہ علاقہ بھی نہایت دور آفتادہ پہاڑی سلسلے میں واقع ہے جہاں مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان لاشوں کو ملبے تلے نکالا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس واقعے میں ایک ہی حاندان کے دس افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں سے ایک لاپتہ ہے جبکہ نو میتیں نکال کر ان کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوسرے مکان میں ایک بچے کی لاش مل گئی مگر خاتون تاحال لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں مال مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں چار بکریاں، دو گائیں، ایک بچھڑا، یعنی سات جانور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اوپر والے گھر میں تین خواتین شادی شدہ، ایک مرد جو شادی شدہ تھا اور دو بچے تھے۔ ان کے مطابق اس حادثے میں تین مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں جن کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا۔ مقامی لوگوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ مالی مدد کی جائے اور اس پسماندہ ضلعے کو جدید مشینری بھیج دی جائے تاکہ اس قسم کے حادثات میں انہیں استعمال کرکے بروقت زحمیوں کو ملبے سے نکالا جاسکے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ریسکیو آپریشن ابھی تک جاری ہے۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

وفاقی اردو یونیورسٹی میں مبینہ لاقانونیت کے خلاف اساتذہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاج، آصف زرداری سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) وفاقی اردو یونیورسٹی کے عبدالحق کیمپس کی انجمن اساتذہ کے زیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے