Home/اہم خبریں/کراچی کو پی پی پی کا مسلط کردہ ایڈمنسٹریٹر قبول نہیں، چارٹر سٹی کا آئینی درجہ اور چارٹر سٹی میئر دیا جائے۔ سینیئر رہنما پی ڈی پی سردار ذوالفقار
کراچی کو پی پی پی کا مسلط کردہ ایڈمنسٹریٹر قبول نہیں، چارٹر سٹی کا آئینی درجہ اور چارٹر سٹی میئر دیا جائے۔ سینیئر رہنما پی ڈی پی سردار ذوالفقار
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیئر رہنما سردار ذوالفقار نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام کو پی پی پی کا مسلط کردہ ایڈمنسٹریٹر قبول نہیں ہے۔ تین کروڑ سے زائد آبادی کا تقاضہ ہے کہ کراچی کو چارٹر سٹی کا آئینی درجہ کر منتخب اور بااختیار میئر دیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت گذشتہ 13 سالوں سے کراچی کے مسائل کو نظر انداز کرتی آرہی ہے اس لئے کراچی کے شہریوں کو نئے ایڈمنسٹریٹر سے کوئی امید نہیں ہے کہ وہ ان کے مسائل حل کرے گا۔ جب تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہو جاتے اس وقت تک کسی باصلاحیت، غیر متنازعہ اور غیر جانبدار شخصیت کو کراچی کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے جس سے امید کی جا سکے وہ بلا امتیاز شہر کی خدمت کرے گا۔ مسلسل نظرانداز کرنے کی وجہ سے کراچی مسائلستان بن چکا ہے۔ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کا تعلیم، صحت، سڑکیں، ٹرانسپورٹ، پانی، گیس، بجلی سمیت ہر طرح کا نظام زمین بوس ہو چکا ہے۔ کراچی کے شہریوں سے بلدیاتی، صوبائی اور وفاقی تینوں طرح کے ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں مگر کوئی بھی مسائل حل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس وقت شہری اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مسائل حل کر رہے ہیں۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ کراچی جو پورے ملک اور صوبہ سندھ کو چلا رہا ہے اس پر وسائل کیوں نہیں خرچ کیے جا رہے۔ وفاقی و صوبائی حکومت کی مہربانی سے منی پاکستان، رفتہ رفتہ مسائلستان بنتا جا رہا ہے۔ شہر قائد میں تعلیم، صحت، سڑکیں، ٹرانسپورٹ کا تباہ حال نظام، پانی، بجلی و گیس سمیت دیگر گھمبیر مسائل کا فوری حل نکالا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں کراچی کے وگرگوں حالات و مسائل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے سینیئر رہنما سردار ذوالفقار نے مزید کہا کہ کراچی یتیم شہر ہے، وفاق اور صوبہ ماں باپ کا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ پورے ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کے مسائل حل کرنے میں حکومتوں کو بالکل دلچسپی نہیں ہے۔ عوام کے منتخب اراکین نے بھی عوام کے مسائل کی طرف سے آنکھیں پھیر لی ہیں۔ اس سال حکومت نے پانچ ہزار ارب روپے کا ریونیو ٹارگٹ رکھا ہے اس میں سے ساڑھے تین ہزار ارب روپے کراچی دے گا۔
تو اس میں سے کم از کم پانچ سو ہزار ارب روپے کراچی پر خرچ ہونے چاہئیں۔ کراچی دودھ دینے والی گائے ہے جس سے سب مستفید ہوتے ہیں لیکن اس پر انویسٹ نہیں کرنا چاہتے۔ کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں پچاس سال سے پیپلز پارٹی حکومت کر رہی ہے۔ دیگر صوبوں میں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اس لیئے وہاں مقابلہ ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو اسٹیک ہولڈرز نے کھلا چھوڑا ہوا ہے۔ اس لئے وہ کارکردگی دکھانے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ پی پی پی کی مہربانیوں کی وجہ سے کراچی کے لئے نہ صحت کا بجٹ ہے اور نہ ہی تعلیم کا۔ بارشوں سے قبل بنائی گئی تمام سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں، گٹر ابل رہے ہیں۔ تین کروڑ سے ز ائد آبادی والے شہر کے مسائل کا حل کیا جانا ضروری ہے۔ کراچی کے مسائل میں سرفہرست روزگار، صحت کی سہولیات، پانی، آلودگی، ٹرانسپورٹ ہیں جس کی وجہ سے عوام نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ کراچی کو چارٹرسٹی کا درجہ دیا جائے۔