Home / اہم خبریں / ایڈمنسٹریٹر کا لالی پاپ نہیں، مسائل کا حل چاہئیے۔ کراچی کے مسائل کا حل اسے چارٹرڈ سٹی کا آئینی درجہ دینے میں ہے۔ طارق چاندی والا

ایڈمنسٹریٹر کا لالی پاپ نہیں، مسائل کا حل چاہئیے۔ کراچی کے مسائل کا حل اسے چارٹرڈ سٹی کا آئینی درجہ دینے میں ہے۔ طارق چاندی والا

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ کراچی کو ایڈمنسٹریٹر کا لالی پاپ نہیں مسائل کا حل چاہئیے۔ کراچی کے تمام مسائل کا حل اسے بلا تاخیر چارٹرڈ سٹی کا آئینی درجہ دینے میں ہے۔ اہل کراچی کا مطالبہ کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، مردم شماری کے درست نتائج، پینے کا صاف پانی، بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، تعلیم اورعلاج معالجہ کی سہولیات ہیں۔ کراچی کے لئے نئی یونیورسٹیز کے قیام، قبضہ مافیاؤں سے نجات، نوجوانوں کے لئے روزگار، جدید سیوریج نظام، میٹرو ٹرینیں، پارکس، کھیلوں کے میدان اور سڑکوں کی از سر نو تعمیر وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب کراچی کو اس کا آئینی حق دیتے ہوئے دنیا کے بڑے شہروں کی طرز پر چارٹرڈ سٹی کا درجہ دیا جائے۔ کراچی کے ساتھ زیادتیوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ کوئی سیاسی جماعت سوائے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے، کراچی کو اون نہیں کرتا۔ کراچی کا انتظام سنبھالنا پیپلز پارٹی کے بس کی بات نہیں ہے۔ کراچی میں موجود تمام نام نہاد بڑی تنظیمیں اپنے مفادات کی غلام ہیں۔ شہر قائد کی تعمیر و ترقی اور اہل کراچی کی خوشحالی ان کا مقصد کبھی رہا ہی نہیں۔ سب نے کراچی کو اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اب عوام کسی سے دھوکہ نہیں کھائیں گے۔ پاسبان کی لیڈر شپ اور جدوجہد کے نتیجہ میں کراچی چارٹرڈ سٹی بننے کی جانب گامزن ہے۔ ان شاء اللہ کراچی کو چارٹرڈ سٹی کا آئینی درجہ دلوا کر اس کے وسائل سے ہی مسائل کو حل کروائیں گے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ کراچی کے لوگوں کے دکھوں کا مداوا صرف چارٹر سٹی کے قیام میں ہے۔ کراچی سے نہ پی پی پی مخلص ہے، نہ ایم کیو ایم، نہ جماعت اسلامی اور نہ ہی کراچی سے بھاری تعداد میں منتخب ہونے والی پی ٹی آئی۔ شہر کی بہتری ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ کراچی کی ٹوٹی پھوٹی خستہ حال سڑکیں، سیوریج کی بہتی لائنیں، جابجا گندگی اور کچرے کے انبار، بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ اور پانی کے لئے پریشان عوام، زبان حال سے اپنی یتیمی پر نوحہ کناں ہے۔ ان سب خرابیوں کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ ہر سال اربوں کا بجٹ مختص کئے جانے کے باوجود شہر موہنجودڑو کا منظر پیش کر رہا ہے۔ مختص کردہ بجٹ کہاں جاتا ہے کوئی جواب دینے کو تیار نہیں۔ کراچی کے مسائل کا حل تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زائد آبادی والے شہروں کو چارٹرڈ سٹی کا درجہ دیا جاتا ہے، کراچی کی آبادی تین کروڑ کے لگ بھگ ہے اسے بھی چارٹرڈ سٹی کا درجہ دیا جانا چاہئیے تاکہ کراچی کے وسائل میں اس کا اپنا بھی حصہ ہو۔ 75 فیصد ریوینیو دینے والے شہر کے لئے اس کا اپنا بجٹ ہو تاکہ اس بجٹ سے معیشت کی بحالی سمیت تمام پیچیدہ مسائل حل کئے جا سکیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے