حیدرآباد (بیورو رپورٹ) سندھ ایگریکلچر ریسرچ کاؤنسل کی جانب سے حیدرآباد پریس کلب میں سندھ میں پانی کی شدید قلت، اسباب اور ان کے حل کے حوالے سے واٹر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا واٹر کانفرنس میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ سمیت سندھ بھر سے آباد گاروں، زرعی و پانی کے ماہرین نے شرکت کی، شرکاء کی جانب سے سندھ میں زرعی پانی کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئی شرکاء سے خطاب میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ اسمبلی قانون سازی کے لیے ہوتی ہیں یہاں لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مضبوط نہیں کیا گیا این ایف سی تو مل جاتا ہے مگر پی ایف سی نہیں ملتا اس وجہ سے ایم پی اے ایم این اے روڈ رستوں گٹروں کے مسائل میں پھنس جاتے ہیں، آج کل کروڑوں خرچ کرکے بڑی کانفرنسز ہوتی ہیں آج ہم نے پریس کلب پر کانفرنس رکھی ہے پانی ایک بنیادی حق ہے لیکن سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے بڑوں کو بااثر کو مل رہا ہے مگر غریب ہاری کو نہیں ملتا اوپر پانی مل جاتا ہے ٹیل پر نہیں ملتا وفاق پر پانی چوری کے الزام لگائے جارہے ہیں سندھ کا اگر کوئی ایک بوند پانی چوری کرے گا تو ہم فرنٹ فوٹ پر لڑیں گے سندھ حکومت صرف وفاق اور پنجاب پر پانی چوری کا الزام لگا رہی ہے سندھ میں مخصوص شاخوں میں پانی جا رہا ہے مگر عام شاخوں میں پانی موجود نہیں سندھ میں ہر طرف لفٹیں لگی ہوئی ہیں، جیسے ہوا پر سیاست نہیں اس طرح ہم پانی کو بھی غیر سیاسی کرنا چاہتے ہیں پانی کی تقسیم کے معاملے پر کسی صوبے سے زیادتی نہیں ہوئی تمام صوبوں کو واٹر ریکارڈ کے تحت پانی تقسیم کیا جارہا ہے سندھ کو کپاس کی کاشت کے وقت زیادہ پانی فراہم کیا گیا سندھ کو صرف 20 فیصد پانی کی کمی ہوئی جبکہ پنجاب کو 21 فیصد اب جنوبی پنجاب کو کپاس کی کاشت کے لیے پانی فراہم کیا جارہا ہے اور تمام صوبوں کو ان کے حصے کے مطابق پانی فراہم کیا جارہا ہے تونسہ پنجند کینال پر کوئی بھی پاور ہاؤس بنانے کا منصوبہ زیر غور نہیں ہے چشمہ جہلم لنک کینال سے پنجاب کو گریٹر تھل کینال کے لیے پانی فراہم کیا جارہا ہے ارسا کسی صوبے کا پانی کم نہیں کرسکتی ہر صوبے کا نمائندہ ارسا میں موجود ہے ان کے بغیر پانی کی تقسیم طئے نہیں کی جاسکتی چاول کی کاشت کے وقت بھی صوبوں کو ان کے حصے کے مطابق پانی فراہم کیا جائے گا اس وقت ایک ملین ایکڑ فٹ پانی ڈیموں کے اندر موجود ہے سندھ حکومت پانی کے معاملے پر اپنے اعداد و شمار پر غلط بیانی کر رہی ہے اس وقت سندھ کو ایک لاکھ 30 ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جارہا ہے ارسا نے سندھ کو منگلا سے 9 لاکھ ایکڑ فٹ پانی اب تک اضافی فراہم کیا ہے سندھ اس دورانیے میں 70 ہزار ایکڑ فٹ پانی دریا میں بہا چکا ہے سی جی اور ٹی پی لنک پر سندھ حکومت کے اعتراضات واٹر ریکارڈ کے خلاف ہیں واٹر ریکارڈ کے مطابق صوبے اپنے حصے کا پانی خود استعمال کرنے کے لیے آزاد ہیں سندھ کا پانی نہ کم ہوا نہ ہوسکتا ہے اور نہ کسی کو کرنے دیں گے اب اگر بارشیں کم ہوئی میلٹنگ کم ہوئی تو اس پر نہ عمران خان کنٹرول کرسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی اور، پٹ فیڈر پر ایک بااثر شخص پیسے لیکر من پسند لوگوں کو لفٹ مشین کے ذریعے پانی دیتا ہے پولیس کی مدد سے، ریگیولیٹر کا نظام بھی تباہ ہے اس کے اندر بھی دکے لگے ہوئے ہیں گھوٹکی فیڈر کا دورہ کیا اس وقت سات ہزار کیوسک پانی چل رہا تھا مگر ساتھ غریبوں کی شاخوں میں ریت اڑ رہی تھی ہم اس ناانصافی کے نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں وفاق سے اگر کوئی مسئلہ ہوگا تو ہم سندھ کی جنگ لڑیں گے پانی سندھ میں آنے کے بعد چوری ہو رہا ہے وہ بھی لینا ہمارا حق ہے احساس پروگرام میں سندھ کو زیادہ حصہ دیا گیا تحریک انصاف کی کتاب میں ناانصافی شامل نہیں ہے، سندھ حکومت نے پانی کے نام پر سیاست کی وزیراعظم اور ارسا نے سندھ کو موقع دیا لیکن سندھ حکومت وہاں سے بھاگ گئی کیونکہ وہ صرف سیاست کررہی ہے لیٹرز موجود ہیں وزیراعظم سیکریٹریٹ سے خط لکھا گیا ارسا نے بھی خط لکھا لیکن سندھ نے کوئی جواب نہیں دیا سندھ کے دو انسپکٹرز نے پنجاب کے ریگیولٹرز کا دورہ کیا تو انہوں نے رپورٹ دی کہ کوئی چوری نہیں جب پنجاب کے انسپکٹرز سندھ آئے تو انہیں دورہ نہیں کرایا گیا جوڈیشنری کو مقرر کیا جائے ڈائریکٹ آؤٹلیٹس میں سندھ کے بڑے خاندانوں کے نام ہیں سپریم کورٹ جنہیں ناجائز قرار دے چکا ہے چوری کرکے سندھ حکومت سینا زوری کررہی ہے آبادگار ہمیں تجاویز بناکر دیں میں انہیں قانون سازی کے لیے اسمبلی میں لیکر جاؤں گا امید ہے حکومت بھی ہمارا اس میں ساتھ دے گی سندھ حکومت بھی سندھ کے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے مضبوط سندھ مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے سندھ کی عوام کو مضبوط کیے بغیر صوبے کو مضبوط کرنا ممکن نہیں ہمیں چھوٹے آباد گاروں کو حقوق دینے کی ضرورت ہے میں سندھ کے مسائل کی جنگ لڑتا ہوں اپنی ذات کے لیے جنگ نہیں لڑ رہا ہوں میں سندھ کے لوگوں کے لیے سندھ بھر میں جاتا ہوں میں سندھ کا وکیل ہوں پانی کی تقسیم پر گیج اور نیا نظام لکاگر اس معاملے سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں لیکن سندھ حکومت اس معاملے پر سنجیدہ نہیں سندھ ایگریکلچر ریسرچ کاؤنسل کے سرپرست ایڈووکیٹ علی پلھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی ہے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث سندھ میں فصلیں تباہ ہو رہی ہیں ارسا پانی کے حوالے سے تمام چیزیں ویب سائیٹ پر جاری کرے ورلڈ بینک کے پانی پر جو پروجیکٹ ہیں انہیں ویب سائیٹ پر لایا جائے اور ہر ڈسٹرکٹ میں آفس قائم کی جائے ارسا کی تمام میٹنگز کی ریکارڈنگ موجود ہو اگر کوئی مسئلہ ہو تو اسے عوام کے سامنے لایا جائے کتاب کی بات پر سارا پانی ادھر ادھر کردیا گراؤنڈ واٹر کی تفصیلات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ریکارڈ کو تبدیل کرکے نیا ریکارڈ بنایا جاۓ، پانی کو سیاست سے پاک کیا جائے ووٹ دینے اور نہ دینے پر پانی کی تقسیم کا سلسلہ بند کیا جائے۔ سولر ٹیوب ویل وفاقی اور سندھ حکومت آباد گاروں کو فراہم کرے اداروں میں رابطوں کا فقدان ختم کیا جائے واٹر کانفرنس میں سندھ کے مختلف اضلاع سے آئے آباد گاروں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پانی کے حوالے سے شکایات اور تجاویز بھی پیش کی۔