تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کے الیکٹرک کی کارکردگی انتہائی مایوس کن اور عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ طارق چاندی والا

کے الیکٹرک کی کارکردگی انتہائی مایوس کن اور عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ طارق چاندی والا

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر کراچی طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک نئے دور کی ایسٹ انڈیا کمپنی ہے، جس کی خفیہ نجکاری کا معاہدہ عوام پر ظلم و ستم اور لوٹ مار کو تحفظ دینا تھا۔ کے الیکٹرک کے ساتھ کئے جانے والے خفیہ معاہدے اور اسے دئے جانے والے حکومتی تحفظ نے ایک بار پھر کراچی کے مظلوم عوام کے زخموں کو بری طرح کرید دیا ہے۔ کے الیکٹرک کی کارکردگی انتہائی مایوس کن اور عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ کرپٹ ترین ادارے کی مکمل توجہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے اور اوور بلنگ پر مرکوز ہے۔ 2005 میں کیا جانے والا معاہدہ ایک بہت بڑا مالیاتی اسکینڈل تھا جو کراچی کے شہریوں کے لئے عذاب بن چکا ہے۔ عوام کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کے الیکٹرک کا مالک کون ہے؟ شہر میں لوڈ شیدنگ بھی جاری ہے اور نرخوں میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ بدعنوانی میں ملوث ہو جانے والی پی پی پی اور پی ٹی آئی قیادت، افسر شاہی کی طاقت اور سرپرستی کی وجہ سے کے الیکٹرک ایک بدمست ہاتھی بن چکا ہے اور آزادی کے ساتھ شہریوں کا استحصال کر رہا ہے۔ اگر شہر میں کوئی حقیقی سیاسی قیادت ہوتی تو کے الیکٹرک کے مالکان اتنی آسانی سے اس شہر کے باشندوں کو لوٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔ کئی برسوں سے کے الیکٹرک کو نیشنل گرڈ سے ساڑھے چھ سو اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ بجلی اور اربوں روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ کے الیکٹرک عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں آزاد ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں کے الیکٹرک کی نجکاری سے متعلق معاہدہ کو خفیہ رکھنے کے فیصلہ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیف آرگنائزر کراچی طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک کو فراخدلی کے ساتھ دی جانے والی مالی مراعات کرپشن کے زمرے میں آتی ہیں۔ ایک دہائی گزرنے کے باوجود کے الیکٹرک نے بجلی پیداوار کا ایک منصوبہ بھی شروع نہیں کیا۔ کراچی کے عوام کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہانے والی پیپلز پارٹی وہی ہے جس نے کے الیکٹرک کے ساتھ معاہدے میں ملکی مفاد کے خلاف ترامیم شامل کیں۔ کراچی کے عوام کو اس جہنم میں دھکیلنے کے ذمہ دار ایوان میں دہائیاں دیتے وہی سب ہیں جنہوں نے آج منہ پہ ماسک اور ہاتھوں پہ دستانے چڑھا رکھے ہیں۔ عوام کو بتایا جائے کے ای ایس سی کی نجکاری سے متعلق کیا جانے والا خفیہ معاہدہ کیوں ہوا اور کس نے کیا؟ اس معاہدے سے کس کس نے فائدے اٹھائے اور اب کراچی کے عوام کے الیکٹرک کی بدمعاشیوں کو بھگت رہے ہیں۔ کیا وزارت نجکاری کو بین الاقوامی عدالت سے جرمانے کا ڈر ہے یا بدنیتی کی جارہی ہے؟ عوام اس وقت کے ای ایس سی کے سب سے بڑے متاثرہ فریق ہیں انہیں اعتماد میں لیا جائے ورنہ انفارمیشن کمیشن کا قانون اسلام آباد کے قبرستان مین دفن کر دیا جائے۔ کے الیکٹرک کی مہربانیوں سے شہریوں کا مرنا روز کی کہانی ہے۔ کے الیکٹرک کو تحویل میں لے کر اسے مختلف بجلی کی پیداوار میں خود کفیل کمپنیز کے سپرد کر دیا جائے تاکہ مقابلے کی فضا میں صارفین کا بھلا ہو۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے