کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے رہنماؤں اور ممبران نے ڈی جی ٹی او کی جانب سے ایف پی سی سی 2021 کے انتخاب پر خالد تواب کی طرف سے دائر شکایت پر فیصلہ مؤخر کرنے کی دانستہ کوشش پر افسوس کا اظہار کیا۔ یو بی جی ممبران نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ناصر حیات کی درخواست منسوخ کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد میں غیر ضروری تاخیر پر ڈی جی ٹی او کے کردار پر سخت تنقید کی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ الیکشن 2021 کے حوالے سے ڈی جی ٹی او آفس کو تمام ضروری شواہد فراہم کردیئے گئے تھے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انتخابات کے موقع پر ڈی جی ٹی او کی ٹیم خود انتخابی مقام پر موجود تھی اور الیکشن کارروائیوں کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ اس لئے ڈی جی ٹی او آفس کے اختتام پر ہونے والی تاخیر نے تاجر برادری کے ذہنوں میں غیر منصفانہ طریقے سے تجاوز کرکے ناصر حیات مگوں کو ایف پی سی سی کے صدر کے عہدے پر کامیاب قرار دیدیا، ڈی جی ٹی او کی جانب سے غیر قانونی قبضے کو طول دینے کے لئے سہولیات اور حمایت کے لئے شکوک و شبہات پیدا کر دیئے ہیں۔ ممبران نے اپنی شدید شکایات، تشویش اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ 2013 (ٹی او اے) اور ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013 (ٹی او آر) کے تحت ڈی جی ٹی او آفس کو ٹریڈ باڈیز کے معاملات کی نگرانی کے لئے قائم کیا گیا تھا جس میں ڈی جی ٹی او بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ ٹریڈ باڈیز کے معاملات اسی طرح حل کرنے کے لئے گذشتہ سال 2020 میں ایف پی سی سی کے سینئر نائب صدر کے انتخاب کے بارے میں فیصلہ کرنے میں ناکام رہا تھا جو اس کے اختتام پر 2020 تک التوا کا شکار رہا اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈی جی ٹی او کا دفتر جانبدار اور متضاد بن گیا ہے۔