میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) میرپورخاص کے علاقے محمود آباد سے نوجوان لڑکی کومل بلوچ مبینہ اغوا۔ کومل بلوچ کے ورثا کا کہنا ہے کہ لڑکی کو اسکے شوہر نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے تشدد کے بعد اغوا کیا ہے۔ جس سے اسکی جان کو خطرہ ہے۔ جبکہ متعلقہ خاتون نے مقامی عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعوی کر رکھا ہے۔ جسکا کیس زیر سماعت ہے۔ اغوا ہونے والی خاتون کے چاچا اور اسکے رشتہ دار خواتین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آچو نامی شخص سے ان کی پرانی تکرار ہے۔ آچو نے 11 سال قبل خاتون کومل بلوچ کے ماں اور باپ کو قتل کرکے کومل بلوچ کو اغوا کرکے زبردستی نکاح کیا تھا۔ جبکہ کچھ دن قبل خاتون اسکے چنگل سے آزاد ہوکر اپنے چاچا کے پاس واپس آئی تھی۔ خاتون نے مقامی عدالت میں خلع کے لئے بھی کیس دائر کر رکھا ہے۔ لیکن مبینہ ملزم نے عدالت میں کیس چلنے کے باوجود خاتون کو اپنے ساتھیوں کی مدد سے ان کے گھر سے زبردستی اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن مبینہ ملزم کے بااثر ہونے کی وجہ سے انکا کیس درج نہی کر رہی۔ متاثرین نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لیکر انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔