کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ امیر پیر قاری عبدالمنان انور نقشبندی جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکٹری حافظ احمد علی نے جمعیت علماء اسلام کے سیکٹریٹ کشمیر روڈ پر منعقد تعزیتی ریفرینس سے شیخ الحدیث مولانا فیض الباری صاحب کے انتقال پر انتہائی غم و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فیض الباری ایک عظیم ہستی تھے مولانا فیض الباری صاحب کو جمعیت علماء اسلام کراچی کا سرپرست مقرر کیا حضرت نے دنیا کے کئی ملکوں میں جا کر دین اسلام کی تبلیغ کی دنیا کے ہر ملک میں لاکھوں شاگرد، معتقدین اور مریدین کا حلقہ پھیلا ہوا ہے ان کی وفات سوگواران کے لئے بڑا سانحہ ہے مولانا فیض الباری کی ساری زندگی نیکی کے کاموں میں اور عوام کی خدمت کرتے ہوئے گزری شیخ صاحب نے ہمیشہ اصولوں کی بات کی اور تمام مکاتب کو ایک پلییٹ فارم پر جمع کرنے کی ہمتن کوشش کی۔ ان کا انتقال گزشتہ دنوں کراچی میں ہوا اور تدفین مقامی قبرستان میں کی گئی، ان کی وفات کے بعد ان کے خاندان میں ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہوگیا ہے جس کو پر کرنا شاید ناممکن ہوگا، اللہ پاک انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے۔ نماز جنازہ میں تمام مکاتب فکر کے علماء اکرام، مذہبی اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی اور متعدد علماء مشائخ سیاسی سماجی لوگوں نے شرکت کی اور ان کے اہل خانہ سے ظاہر تعزیت کی۔ جن میں جے یو آئی کے صوبائی امیر قاری عبدالمنان انور نقشبندی، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکٹری حافظ احمد علی، مولانا ولی ہزاروی، مولانا اقبال اللہ، نے حضرت شیخ کی نماز جنازہ میں شرکت کی مفتی محمد نقشبندی، قاری سیف الرحمن، مولانا عبدالسلام شامزئی، قاری عبدالوہاب انقلابی، مولانا مشتاق عباسی، مفتی حماد مدنی، مولانا فھیم امجد، مولانا بخت علی شاہ، جے یو آئی س کے مفتی عابد، مولانا حبیب اللہ، مولانا فرحان سعید، مولانا عبید الرحمن، مولانا کلیم اللہ چترالی، مولانا آفتاب حسین، مولانا اقبال اللہ، حضرت ولی ہزاروی، مفتی فیضان، تاجربرادران، شہر کے مدارس کے علماء اکرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اور اہل علاقہ کے لوگوں کی بڑی تعداد نے سوگواران سے دکھ کا اظہار کیا، اور تعزیت کا اظہار کیا اور مولانا فیض الباری کے بلندی درجات کے لئے دعا کی۔