تازہ ترین
Home / اہم خبریں / پی ایم سی کی میڈیکل کالجز کی بے ضابطگیوں پر کاروائیاں خوش آئند ہیں۔ عبدالحاکم قائد وائس چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

پی ایم سی کی میڈیکل کالجز کی بے ضابطگیوں پر کاروائیاں خوش آئند ہیں۔ عبدالحاکم قائد وائس چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے میڈیکل کالجز کے خلاف بے ضابطگیوں پر کاروائی کے اقدام خوش آئند ہیں۔ پی ایم سی کی کاروائیوں کے باوجود پرائیویٹ کالجز اور یونیورسٹیوں میں بے ضابطگیاں عروج پر ہیں، ٹھوس کاروائی کی جائے۔ پرائیویٹ ادارے میرٹ کو پامال کرکے حرص کی بنیاد پر ایڈمیشن دے رہے ہیں۔ بہت سے کالجز پانچ سال کی فیس ایڈوانس وصول کر رہے ہیں اس کے باوجود امتحانات کا معیار انتہائی ناقص ہے۔ مفلوج نظام، رشوت خوری اور تعلیم کو کاروبار بنانے کی وجہ سے ہر سال کئی قابل اور باصلاحیت طالبعلم داخلوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ میدیکل کالجوں میں اضافی نمبروں سے داخلے دلوانے کے لئے طلبہ سے لاکھوں روپے رشوت کے طور پر وصول کئے جاتے ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کی وجہ سے تعلیم اب منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔ تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہے اور اس حکومتی ناکامی پر لوگ اپنے بچوں کو نجی اداروں میں تعلیم دلانے پر مجبور ہیں۔ ریاست کا کام ہے کہ وہ نجی اسکولوں، کالجوں اور جامعات کو ریگولیٹ کرے۔ ملک میں نجی اداروں نے تعلیم کو مہنگے سے مہنگا کرنے، من مانیوں اور بے بس والدین کو لوٹنے کا جو تعلیمی کاروبار عروج پر پہنچا رکھا ہے، اس کی سو فیصد ذمے داری ہماری تمام حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں میڈیکل کالجز سمیت نجی تعلیمی اداروں کی لوٹ کھسوٹ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے مزید کہا کہ ملک بھر میں حکومتوں نے لاکھوں سرکاری اسکول بنا رکھے ہیں اور ہزاروں کالج اور یونیورسٹیاں بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بنا رکھے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی اکثریت اپنی ناقص کارکردگی کے باعث عوام میں اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔ حکومتوں اور ایجوکیشن افسروں کی غیر ذمے داری اور نااہلی کے باعث تمام سرکاری ادارے ناکام اور تباہ حالی کا شکار چلے آرہے ہیں۔ اکثر نجی تعلیمی ادارے صرف پیسہ کمانے کے لیے کھولے گئے ہیں،انھیں تعلیم کے فروغ یا تعلیمی معیار کی بہتری سے نہیں بلکہ اپنے تعلیمی اداروں کے معیار سے زیادہ سروکار ہے۔ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم پر عدم توجہی اور تعلیمی افسروں کی باہمی ملی بھگت نے پرائیویٹ اداروں کو امیروں کا شوق اور متوسط طبقے کی مجبوری بنا رکھا ہے۔ ریاست تعلیم کے نام پر سالانہ اربوں روپوں کا بجٹ بنا کر ہڑپ کر جاتی ہے۔ نجی تعلیمی ادارے پھل پھول کر مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے