کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) گلوبل گرین، ہیریٹیج فاونڈیشن ٹرسٹِیز، ماحولیات کے تحفظ میں دلچسپی لینے والے افراد اور مکلی کمیون نے یکجا ہوکر ہیریٹیج فاونڈیشن کے مقام پر 100 نئے پودے لگائے، اس کام کے لئے شجرکاری کا مایاواکی اسٹائل اپنایا گیا۔
یہ نہایت خوش آئند نظارہ تھا کہ جب شجر کاری کے شوقین حوصلہ مند بچے اور بڑے ایک ساتھ مل کر مختلف اقسام کے پودے لگاتے نظر آئے جن میں لیموں، فالسا، کیلا اور موریناگا قابل ذکر ہیں حالانکہ اِس محنت طلب کام کے دوران شدید گرمی پڑتی رہی۔ خیال رہے کہ گرین شیلٹر پراجیکٹ (جی ایس پی) کی جانب سے یہ دسویں کمیونٹی فاریسٹ شجرکاری تھی۔ اس طویل مہم کے زریعے اب تک 3 ہزار سے زائد درخت اور 6 سو سے زائد جھاڑی دار پودے اُگائے جاچکے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ شجرکاری کراچی میں کی گئی ہے ورنہ اس سے پہلے تک تمام جنگلات مکلی میں لگائے گئے ہیں۔ شجرکاری کے مایاواکی اسٹائل میں درخت ایک دوسرے کے نزدیک لگائے جاتے ہیں جس سے صرف 2 سال میں اِن سے وہ نشونما حاصل کی جاسکتی ہے جو عموماً 10 سالوں میں ممکن ہوتی ہے۔ اس کام کے لئے 100 فیصد نامیاتی مرکبات پر مشتمل مٹی کی تیاری بھی مکلی کمیون کی جانب سے ہی کی گئی جس کا تجربہ ماضی میں اُگائے گئے جنگلات میں بے حد مفید ثابت ہوا۔ متعدد شرکاء نے شجرکاری کے اِس طریقہ کار سے متاثر ہوکر دیگر علاقوں میں اِسے اپنانے کا ارادہ ظاہر کیا، اور یہ ہیریٹیج فاونڈیشن کی جانب سے منقعد گئی ایکسرسائز کے مقاصد میں ایک اہم مقصد بھی تھا-
![]()
![]()