کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پہلی مرتبہ ڈائریکٹر سندھ فشریز کی جانب سے جولائی کی پابندی کے ساتھ ساتھ کراچی فش ہاربر پر مچھلی کی خرید و فروخت پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔ 1700چھوٹی بڑی لانچیں جو کھلے سمندر سے شکار لے کر آرہی ہیں، کراچی فش ہاربر پراگر انہیں لینڈنگ کی اجازت نہ ملی تو ماہی گیر وہ مچھلی کہاں لے کر جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ ڈائریکٹر سندھ فشریز کی جانب سے جولائی کی پابندی کے ساتھ ساتھ کراچی فش ہاربر پر مچھلی کی خرید و فروخت پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔ 1700چھوٹی بڑی لانچیں جو کھلے سمندر سے شکار لے کر آرہی ہیں، کراچی فش ہاربر پر اگر انہیں لینڈنگ کی اجازت نہ ملی تو ماہی گیر وہ مچھلی کہاں لے کر جائیں گے۔ چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے کہا ہے کہ کراچی فش ہاربر کی 75 سالہ تاریخ میں کبھی اس طرح کی پابندی نہیں لگائی گئی جس طرح کی پابندی ڈائریکٹر فشریز نے لگا دی ہے، اس پر فوری طور پر نظرثانی کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے احکامات سر آنکھوں پر ہیں، مگر ماہی گیروں کو کراچی فش ہاربر پر لینڈنگ سے روکنا اور خرید و فروخت پر پابندی لگانا مناسب عمل نہیں ہے۔ اس سے پہلے ہی غریب ماہی گیرکرونا وباء اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت نقصان اٹھا چکے ہیں۔ انہیں مزید نقصان پہنچانا غیر مناسب ہوگا۔ چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے کہا ہے کہ ڈائریکٹر فشریز کے کراچی فش ہاربر پر لینڈنگ و خرید و فروخت پر پابندی کے احکامات غیر قانونی جیٹیوں کو نا دانستہ طور پر سپورٹ کرنے کی سازش معلوم ہوتے ہیں۔ چیئرمین عبدالبر نے سوال اٹھایا کہ سمندر سے واپس آنے والی 1700 لانچوں کو کراچی فش ہاربر پر لینڈنگ اور خرید و فروخت کی اجازت نہ ملی تو ماہی گیروں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کون کرے گا۔ ہمارے ماہی گیر اتنے بڑے نقصان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ چیئرمین عبدالبرنے کہا کہ اگر محکمہ فشریز ماہی گیروں کو کراچی فش ہاربر پر مچھلی کی لینڈنگ اور خرید و فروخت کی اجازت نہیں دینا چاہتا تو ماہی گیروں کو ان کے فیصلے کے سبب پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ اور ان ماہی گیروں کے لیے حکومت کسی پیکیج فوری طور پر اعلان کرے۔چیئرمین عبدالبرنے کہا کہ ڈائریکٹر فشریز نے خرید و فروخت پر پابندی تو لگائی ہے مگر انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ سمندر میں شکار پر پابندی کے دوران جو میٹھے پانی کی مچھلی کراچی فش ہاربر پر فروخت کے لیے لائی جاتی ہے وہ میٹھے پانی کی مچھلی کہاں لے جاکر فروخت کریں گے۔ ڈائریکٹر فشریز کے کراچی فش ہاربر پر مچھلی کی خرید و فروخت پر پابندی کے فیصلے سے قانونی طور پر کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ اور فشر مینز کوآپر یٹو سوسائٹی اور حکومت کو ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگانے والی غیر قانونی جیٹیوں کی مافیا کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہو گی۔ چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے کہا ہے کہ غیر قانونی جیٹیوں کو پورا سال مچھلی کے شکار اور غیر قانونی دھندوں کی اجازت ہوتی ہے، اور قانونی طور پر کام کرنے والے ماہی گیروں پر پابندیاں لگانا مناسب عمل نہیں ہے۔ چیئرمین عبدالبرنے کہا کہ 1700 لانچوں کے مالکان کو کراچی فش ہاربر پر لینڈنگ کی اجازت نہ ملی تو ہزاروں متاثرہ ماہی گیروں کو قائل کرنا ممکن نہیں ہوگا، امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: اسسٹنٹ کمشنر ٹنڈو آدم و چیف میونسپل آفیسر کا مون سون کی بارشوں کی آمد سے قبل سیوریج لائنوں اور بڑے نالوں کی صفائی و ستھرائی کے کاموں کا جائزہ
https://www.nopnewstv.com/cleaning-all-major-drains/