جامشورو (رپورٹ: سبحان بلوچ) قومي عوامی تحريک کے صدر اياز لطيف پليجو نے کہا ہے کہ ون يونٹ توڑنے کے مطالبے اور ايوبی اور ضيائی آمريت ختم کرنے کے مطالبے پر کيا پاکستانی عوام کے خلاف آرٹيکل 6 لگ سکتا تھا ؟ کالاباغ ڈیم بننے نہیں دیں گے- آرٹیکل 6 کی دھمکياں وطن کي محبت اور تحفظ کے جذبے سے نہیں روک سکتيں.ہر ملک کے شہريوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وه قانون کی حدود ميں رہتے ہوئے عوام کے ليے جو بہتر سمجھيں اس کا اظہار کريں- پانی کے معاملے پر کسی قسم کی جبر اور دباؤ کو برداشت نہیں کريں گے- سندھی، بلوچ اور پشتون کسی صورت کالا باغ ڈیم کو قبول نہیں کریں گے۔
سندھ سمیت تین صوبائی اسمبلیاں کالا باغ ڈیم کو رد کر چکی ہیں۔ سياسی بيانات فقط سياسی ليڈرز کو دينے چاہئیں- سرکاری عملداروں اور اداروں کو نہیں. پہلے بغير مشورے کے بھاشا کی بات کی گئی اب کالا باغ ڈیم کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں- گزشتہ سو سال ميں سندھ کے چرائے گئے پانی کا حساب ديا جائے- جیلوں سے سندھ کو ڈرایا نہیں جا سکتا- کالا باغ ہماری لاشوں پر بن سکتا ہے- دریائے سندھ پر پہلا حق سندھ کا ہے، اسمبلی قرارداديں اور علماء کے فتویٰ موجود ہيں- سندھ سوکھ رہا ہے آپ پانی جمع کرنے کی بات کر رہے ہيں- چشمہ اور تونسہ کينال بند کئے جائيں. ارسا اور واپڈا نے سندھ اور ملک سے دشمنی کی ہے-
پانی سندھ اور سندھیوں کے مستقبل کا سوال ہے، ہم آنے والی نسلوں کو پیاسا مرنے نہیں ديں گے-
کالا باغ ڈیم زبردستی بنانے کی کوشش کی گئی تو لوگ مزاحمت کیلئے تیار ہیں آخری سانس تک پانی کی چوری کے خلاف جنگ کرتے رہیں گے پاکستان ہمارا وطن ہے، ہم سے روز امتحان نہ ليا جائے-عدلیہ کا احترام کرتے ہیں مگر انکا کام انصاف کی فراہمی ہے نہ کہ ٹکراءُ پيدا کرنا-
![]()