کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کورونا وائرس کا معاملہ / جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پوری دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے جسکو عالمی وباء بھی کہا جاسکتا ہے، بڑے بڑے ممالک جو وسائل کے اعتبار سے ترقی یافتہ تصور کئیے جاتے ہیں مگر اس وباء کے سامنے وہ بھی بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں، ڈبلیو ایچ او نے جو اعداد شمار شائع کیے ہیں جس کہ مطابق دو لاکھ 94 ہزار 110 افراد اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں، ڈبلیو ایچ او رپورٹ کے مطابق بارہ ہزار 944 افراد اس وباء سے انتقال کرگئے ہیں، یہ ایک بہت بڑا انسانی سانحہ ہے، اس وقت علماء، ڈاکٹرز انسانیت کی خدمت اور رہنمائی میں مصروف ہیں، علماء اور ڈاکٹرز لوگوں کو روحانی علاج اور احتیاط کے حوالے سے آگاہ کر رہے ہیں، اس وقت ہمیں زیادہ سے زیادہ توبہ استغفار کرنا چاہئے، اس وقت تک اس مرض کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا، تو ظاہر ہے پھر ہمیں احتیاط ہی برتنا ہوگی، لوگوں سے ملنا جلنا اور غیر ضرور طور پر گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئے، ایسے حالات میں اقوام عالم ہر نقصان کو برداشت کر رہی ہے کیونکہ انسانی جان سے اہم کوئی چیز نہیں، جمعیت علماء اسلام نے اپنی تمام سرگرمیاں پانچ اپریل تک معطل کردی ہیں، ہم نے اپنے رضاکاروں کو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ میں رہنے کی ہدایت کی ہے، ہمارے رضا کار کرونا سے متاثر افراد کی مدد کو پہنچیں، احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے کارکنان اپنی یونین کونسل اور علاقہ میں دیہاڑی دار مزدوروں اور غریب لوگوں کا بھی خیال رکھیں، ہر شخص انفرادی طور عبادت کرے اور خاص وظائف کا ورد کرے، قومی سطح پر جب ہم اس قسم کی آزمائشوں سے دوچار ہوتے ہے تو اس کا بنیادی سبب ہمارے اجتماعی گناہ بھی ہوتے ہیں، ستر سالوں سے ہم اسلامی طریقہ سے زندگی گزارنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہمارے حکمران بھی مغربی طریقہ اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنے میں مصروف رہتے ہیں، اور اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، پوری قوم کو چاہئے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور سیدھے راستہ پر آئے، ہمیں اپنا نیا مستقبل تشکیل دینا ہوگا۔
![]()