Home / اہم خبریں / چترال میں نہ تو کورونا وائرس کی روکنے کا کوئی انتظام ہے نہ اس کا علاج ممکن ہے۔ رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی

چترال میں نہ تو کورونا وائرس کی روکنے کا کوئی انتظام ہے نہ اس کا علاج ممکن ہے۔ رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی

چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) چترال کی ضلع انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چترال میں نہ تو کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے محکمہ صحت کے پاس علاج کی سہولت ہے نہ اس کی تشحیص کیلئے کوئی لیبارٹری یا مشنری موجود ہے یہاں تک کہ چترال بھر کے ہسپتالوں میں اسکینر مشین تک نہیں ہے جس سے کورونا وائرس کی تشحیص ہوسکے۔ جب تک منتحب نمائندوں، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا ان حیالات کااظہار چترال سے منتحب رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کے تحصیل امیر خان حیات اللہ خان، جنرل سیکریٹری فضل ربی جان اور جماعت اسلامی یوتھ ونگ کے صدر وجیہ الدین بھی موجود تھے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کے فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ من مانی کرتے ہیں اور منتحب نمائندوں کو نہ تو اعتماد میں لیتے ہیں اور نہ ان سے مشاورت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وبا پاکستان میں ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصہ پہلے آچکی ہے ضلعی انتظامیہ کو چاہئے تھا کہ سب سے پہلے اپنے ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے عملہ کو ٹریننگ دیکر ان کو وہ محفوظ لباس فراہم کرتے جو کورونا وائرس کے مریضوں کا معائنہ کرتے ہوئے ان کی جان بھی محفوظ رہے مگر ابھی تک ان کے پاس کوئی تیاری یا انتظام نہیں ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں آئیسولیشن وارڈ برائے نام تو بنایا گیا ہے مگر وہاں وینٹی لیٹر چار سالوں سے خراب ہے اور اسے کسی نے چلایا نہیں ہے اس کے علاہ کرونا وائرس کے مشکوک مریضوں کی معائنہ کیلئے سکریننگ مشین تک چترال ہسپتال میں یا قرنطینہ مرکز میں موجود نہیں ہے نہ یہاں لیبارٹری کی سہولت دستیاب ہے جس میں اس وباء کا ٹیسٹ کرکے پتہ چل سکے کہ مریض میں یہ وائرس ہے یا نہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپر چترال کیلئے جو فنڈ کا اعلان کیا گیا ہے وہ نہایت کم ہے اسے چار کروڑ تک بڑھایا جائے اور لوئر چترال کیلئے پانچ کروڑ روپے کا فنڈ دیا جائے مگر اس فنڈ کو صحیح معنوں میں ایمانداری سے خرچ کیا جائے تاکہ اس میں کسی قسم کی بدعنوانی نہ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا چترالی نے صوبائی حکومت پر بھی تنقید کی کہ انہوں نے تین سرکاری ہسپتالوں کو ایک غیر سرکاری ادارے کو دیا ہے جس کیلئے وہ سالانہ کروڑوں روپے کا فنڈ بھی دیتے ہیں مگر وہاں کے لوگ ہمیشہ شکایت کرتے آرہے ہیں کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جاتی اور ان کو بہت مہنگا علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ ایم این اے چترالی نے خبردار کیا کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی اس قسم غلط پالیسیوں کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہوں گے اور وہ تنگ آمد بجنگ آمد پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کورونا وائرس کی روک تھام پر مکمل طور پر حکومت اور انتظامیہ کا ساتھ دینے کو تیار ہیں بشرطیکہ انتظامیہ ہمیں اعتماد میں لے۔ اس کے بعد ہمارے نمائندے نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شمیم سے مل کر ہسپتال کے بارے میں معلومات حاصل کی انہوں نے تصدیق کرلی کہ آئیسولیشن وارڈ میں جو چار عدد ونٹی لیٹر نصب ہیں وہ چار سالوں سے کام نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے پاس کورونا وائرس کی سکریننگ مشین یا لیبارٹری موجود ہے۔ انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ زیادہ تر اپنے گھروں میں رہیں اور کسی بھی شک کی بنیاد پر مریض کو چودہ دنوں تک علیحدگی میں رکھیں طبیعت زیادہ خراب ہو تو ہسپتال سے رجوع کریں اور بلا وجہ ہسپتال نہ آئیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے