Home / اہم خبریں / ملک کو لنگر خانوں کی نہیں، کارخانوں کی ضرورت ہے، ملک کے نوجوانوں کو بھیک کے بجائے با عزت روزگارمہیا کئے جائیں۔ چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی الطاف شکور

ملک کو لنگر خانوں کی نہیں، کارخانوں کی ضرورت ہے، ملک کے نوجوانوں کو بھیک کے بجائے با عزت روزگارمہیا کئے جائیں۔ چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ ملک کو لنگر خانوں کی نہیں، کارخانوں کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو بھیک کے بجائے با عزت روزگار مہیا کئے جائیں۔ ملک میں بھکاری پن کو فروغ دینے کے بجائے صنعت و حرفت، زراعت اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں اور ملک خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ غربت اور بیروزگاری کے خاتمے کے لئے ہنر مند افراد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ہنگر انڈیکس میں 118 ممالک میں سے 107ویں نمبر پر ہے، اس جانب حکومت ہنگامی بنیادوں پر توجہ دے۔ لنگر خانوں سے عوام کے بھوک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ عوام کو صرف بھوک کا نہیں بلکہ غذائی اجزاء کی کمی کا سامنا ہے۔ ملک کی اسی فیصد دودھ پلانے والی ماؤں کو ان کی ضروریات کے مطابق غذا دستیاب نہیں ہے۔ پی ٹی آئی حکومت شہریوں کو ہاتھوں میں لنگر کی پلیٹ کے بجائے ہنر دے۔ دستر خوان، شیلٹر ہومز اور لنگر خانے مفلس اور حد سے زیادہ بدحال لوگوں کے لئے ہونے چاہئیں۔ عوام کو لائنوں اور قطاروں میں لگانے کے بجائے روزگار کو مواقع اور ذرائع بڑھائے جائیں۔ لنگر خانے بنانے سے ملک و قوم ترقی نہیں کرتے، خود انحصاری کی راہ چھوڑ کر ہاتھ پھیلانے کی راہ پر چل پڑتے ہیں۔پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں گلوبل ہنگر انڈیکس کی رپورٹ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے الطاف شکور نے مزید کہا کہ پاکستان کا گلوبل ہنگر انڈیکس اسکور 118 ممالک میں 107 ہونا انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ حکومت بھوک و افلاس  پر قابو پانے کے لئے کارخانے اور فیکٹریاں لگانے کے بجائے لنگر خانے اور دستر خوان لگانے، بھینسیں، مرغیاں اور انڈے پالنے کی راہ پر چل رہی ہے جو کہ درحقیقت لوگوں کو سستی، کاہلی اور کام چوری کا عادی بنانے کی کوشش ہے۔ عوام کو مفت کی روٹی اور تن آسانی کا راستہ دکھایا جا رہا ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے فلاحی تنظیم کا کردار ادا کر رہی ہے جبکہ ملک کے شہریوں کو باعزت روزگار کی فراہمی ایک ریاست کی زمہ داری ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت ملک و قوم کو کس راہ پر لگا رہی ہے؟ لاکھوں شہریوں کو بے روزگار کر دیا گیا ہے، سینکڑوں فیکٹریاں اور کارخانے بند کر دیئے گئے ہیں۔ ملک جدید معیشت کے بجائے لنگر خانہ معیشت میں بدل گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک لنگر خانے کے افتتاح کے موقعہ پر کہا تھا کہ جب تک ملک میں روزگار کے حالات بہتر نہیں ہوتے حکومت لنگر خانے کھولتی رہے گی تاکہ کوئی بھوکا نہ رہے۔ کیا عمران خان کے خیال میں لنگر خانہ روزگار کا متبادل ہو سکتا ہے؟حکومت بھیک پر انحصار کا مشورہ دے کر اپنی ذمہ داریوں سے عہد و بر آ نہیں ہو سکتی۔الطاف شکور نے ملک و قوم کی خوشحالی کے لئے تجاویز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محنت سے روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے۔ حکومت بے روزگار لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ بے ہنر لوگوں کو ہنرمند بنایا جائے۔ لنگر اور شارٹ کٹس کے بجائے بے روزگار اور باصلاحیت نوجوانوں کے لئے روزگار کے ذرائع پیدا کئے جائیں۔ زراعت  سے وابستہ افراد کے لئیے آسانیاں دی جائیں۔ صنعت و حرفت اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے تو خود کما کر کھانے کے ساتھ ساتھ عوام ریاست کی ترقی میں بھی بھرپور کردار ادا کر سکیں گے۔ ریاست میں روزگار اور کمائی کے مواقع پیدا کئے جائیں تا کہ لوگ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ضروریات پوری کر سکیں اور ملک کے کارآمد شہری بن سکیں۔ انسان کے لئے پیٹ بھر کھانے کے علاوہ رہائش، تعلیم اورعلاج معالجہ بھی ضروریات زندگی میں شامل ہیں اور باعزت روزگار کے ذریعے ہی ان سب کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ لنگر خانوں، دستر خوانوں اور پناہ گاہیں بنانا اچھا کام ہے لیکن ان کا مقصد ضرورت مندوں کی عارضی مدد ہونا چاہئیے۔ مستقل معاشی خوشحالی کے لئے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ترغیب دینا اور ہنر سکھانا ضروری ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے