راجن پور (رپورٹ: قاضی انعام باری) جام پور نہر میں سگے دو بھائیوں کے ڈوبنے اور 3 دن گزرنے کے باوجود نعشیں نہ ملنا و نہر کا پانی انتظامیہ کی طرف سے بند نہ کرنے پر متاثرین، اہل خانہ، عزیز و اقارب و سول سوسائٹی اور وکلاء نے احتجاجاً مین انڈس ہائی وے کراچی تا پشاور جانیوالی مین شاہراہ کو روڈ بلاک کرکے جام کردیا گیا آج 4 دن ہوگئے ہمارے پیارے معصوم لاپتہ ہیں منتخب اراکین اسمبلی خصوصاً صوبائی وزیر آبپاشی سردار محسن خان لغاری کے ناروا رویہ و ہمدردی کے دو بول انسانیت کے ناطے نہر بند نہ کرانے پر شہری سراپا احتجاج بن گئے، ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ گئی، والدین ننھے پھولوں کی نعشیں نہ ملنے پر شدت غم سے نڈھال پورے سب ڈویژن جام پور کی فضا سوگوار اظہار یکجہتی کیلئے صدر بار ملک گل شیر ڈھانڈلہ بھی پہنچ گئے، غم و دکھ کی اس گھڑی میں غم زدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں، متاثرین سے اسسٹنٹ کمشنر سیف الرحمن خان بلوانی، ایس ڈی پی او سرکل جام پور چوہدری محمد طارق، ایس ایچ اوز سٹی و صدر محمد اختر خان بلوچ اور محمد زبیر خان بزدار نے مذاکرات کیے، اسسٹنٹ کمشنر سیف الرحمن خان نے یقین دہانی کرائی کہ پانی بند کیا جا رہا ہے صبح 10 بجے تک پانی کم ہونے پر دوبارہ میجر آپریشن ہوگا جس میں دونوں بھائیوں کی دوبارہ تلاش جاری رکھی جائے گی جس پر مظاہرین و لواحقین نے سڑک کو کھول دیا شہریوں و معززین میں سابق وائس چیئرمین محمد یونس قریشی، عبدالرزاق عادل قریشی، محمد حنیف راہی، شکیل سومرو ایڈووکیٹ، عبدالجبار خان، ملک غلام یاسین آرائیں، چوہدری اعجاز مشتاق، ندیم قریشی، محمد ارشد قریشی، عبدالرزاق قریشی، محمد راشد، ابرار حسین، قاضی انعام باری و دیگر شامل تھے۔ دریں اثنا ایم پی اے پاکستان پیپلز پارٹی شازیہ عابد ایڈووکیٹ و ٹکٹ ہولڈر صوبائی اسمبلی ملک سبطین سرور آرائیں نے سیکرٹری انہار محمد زمان خان سے ان کے آفس لاہور میں ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ داجل نہر کا پانی بند کیا جائے جس پر فوری طور پر سیکرٹری انہار نے داجل نہر کا پانی بند کرادیا۔
![]()