کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے آج کمشنر کراچی افتخار شالوانی کے ہمراہ کیماڑی میں زہریلی گیس سے ہلاکتوں کے واقعہ کے حوالے سے میڈیا کو کمشنر کراچی آفس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیماڑی واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں حتمی رپورٹ آتے ہی میڈیا کے زریعے عوام کو آگاہ کرینگے اور اعتماد میں لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے ایک ایک شخص کی جان انتہائی قیمتی ہے، سیمپل کراچی یونیورسٹی کی لیبارٹری اور پی سی ایس آئی آر بھجوائے گئے ہیں، حتمی نتیجے اور تحقیقاتی حتمی رپورٹ کے بعد ذمے داران کا تعین کیا جائیگا اور متعلقین کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ واقعہ کے فوری بعد سندھ حکومت کے تمام ادارے متحرک ہوگئے تھے جبکہ حکومت، پی ڈی ایم اے اور پاک فوج مل کر کام کررہے ہیں اور حادثے کی وجوہات سامنے لانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، کیماڑی میں زہریلی گیس سے معتدد ہلاکتیں ہوئیں جبکہ ڈھائی سو کے قریب افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت کو طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا اوروہ گھروں کو روانہ ہوگئے، محکمہ صحت نے حادثے کے بعد تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی، اب بھی لوگوں کی امداد اور راہ نمائی کے لئے سندھ حکومت کے ادارے اور پاک نیوی موجود ہیں، وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج کے اس جدید دور میں گیس خارج ہونے کی وجوہات کا پتہ لگ جانا چاہیئے تھا ایس او پیز اپنی جگہ موجود ہیں رات گئے تک وزیر اعلی سندھ کے ہمراہ میں خود متاثرہ علاقے اور ہسپتالوں کے دورے پر تھا، انتہائی اہمیت کا حامل ہونے کے باعث کراچی پورٹ کی نقل و حمل بہت زیادہ ہے، محترمہ شہید بے نظیر بھٹو نے کیٹی بندر کا منصوبہ اسی وجہ سے دیا تھا کہ پورٹ آبادی کے بیچ میں نہ ہو، کیمیکل کی فیکٹریوں کو بھی شہر سے دور ہونا چاہیئے یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ مل کر لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے، اداروں میں مزید بہتری کی گنجائش ہے ، یہ مسئلہ صرف ایک علاقے کا ہے دیگر علاقوں میں گیس پھیلنے کی افواہیں درست نہیں، وزیر اعلی نے ضرورت کے تحت علاقہ خالی کرنے کی بات کی تھی تاہم اب ایسی صورتحال نہیں ہے، کراچی پورٹ ٹرسٹ اپنا کام کر رہا ہے، واقعہ کو سیاسی ایشو نہیں بنانا چاہیئے، کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا کہ واقعہ صرف ایک مخصوص علاقے میں ہوا ہے اور لوکل سطح پر ہے، میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ زہریلی گیس دیگر علاقوں میں پھیلنے کے حوالے سے افواہوں پر کان نہ دھریں، پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے میں 72 گھنٹے لگتے ہیں، حتمی رپورٹ آنے کے بعد وجوہات کا تعین کرینگے۔
![]()